مغربی ایشیا میں امن کی امید کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں نرمی، برینٹ کروڈ 83 ڈالر سے نیچے آ گیا
نئی دہلی، 3 اگست (ہ س)۔ امریکہ اور ایران کے درمیان امن قائم ہونے کی امید کے باعث بین الاقوامی بازار میں ایک بار پھر خام تیل کی قیمتوں میں نرمی کا رجحان نظر آ رہا ہے۔ آج برینٹ کروڈ کی قیمت میں تقریباً 6 فیصد اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی)
مغربی ایشیا میں امن کی امید کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں نرمی، برینٹ کروڈ 83 ڈالر سے نیچے آ گیا


نئی دہلی، 3 اگست (ہ س)۔ امریکہ اور ایران کے درمیان امن قائم ہونے کی امید کے باعث بین الاقوامی بازار میں ایک بار پھر خام تیل کی قیمتوں میں نرمی کا رجحان نظر آ رہا ہے۔ آج برینٹ کروڈ کی قیمت میں تقریباً 6 فیصد اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ کی قیمت میں تقریباً 7 فیصد تک کی گراوٹ آئی۔ قیمتوں میں اس گراوٹ کے باعث برینٹ کروڈ 83 ڈالر فی بیرل کی سطح سے بھی نیچے گر کر 82.70 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ گیا، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کروڈ بھی 80 ڈالر فی بیرل کی سطح سے نیچے پھسل کر 78.78 ڈالر فی بیرل کی سطح تک آ گیا۔

آج برینٹ کروڈ نے 3.97 ڈالر فی بیرل کی گراوٹ کے ساتھ 83.96 ڈالر فی بیرل کی سطح پر کاروبار شروع کیا۔ کاروبار شروع ہونے کے کچھ دیر بعد اس کی قیمت کچھ وقت کے لیے بڑھ کر 84.11 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ گئی، لیکن اس کے بعد اس کی قیمت میں گراوٹ آنے لگی۔ دن کے کاروبار کے دوران ہی برینٹ کروڈ 5.23 ڈالر فی بیرل یعنی 5.94 فیصد گر کر 82.70 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گیا۔ تاہم اس کے بعد اس کی قیمت میں معمولی تیزی بھی دیکھی گئی۔ ہندوستانی وقت کے مطابق شام 5:30 بجے برینٹ کروڈ 4.92 ڈالر فی بیرل یعنی 5.60 فیصد کی کمی کے ساتھ 83.01 ڈالر فی بیرل کی سطح پر کاروبار کر رہا تھا۔

اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ کی تجارت آج 3.86 ڈالر فی بیرل کی کمزوری کے ساتھ 80.81 ڈالر فی بیرل کی سطح سے شروع ہوئی۔ ابتدا میں کچھ دیر کے لیے اس کی قیمت بڑھ کر 81.30 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، لیکن اس کے بعد اس کی قیمت میں نرمی کا رجحان بن گیا۔ دن کے کاروبار کے دوران ڈبلیو ٹی آئی کروڈ 80 ڈالر فی بیرل کی سطح سے بھی نیچے گر کر 5.89 ڈالر فی بیرل یعنی 6.95 فیصد کی کمی کے ساتھ 78.78 ڈالر فی بیرل کی سطح تک آ گیا۔ ہندوستانی وقت کے مطابق شام 5:30 بجے ڈبلیو ٹی آئی کروڈ 5.61 ڈالر فی بیرل یعنی 6.63 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ 79.06 ڈالر فی بیرل کی سطح پر کاروبار کر رہا تھا۔

مغربی ایشیا میں ایک بار پھر جنگ رکنے اور امن قائم ہونے کے امکانات پیدا ہونے کی وجہ سے خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کا رجحان بن گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی ختم ہونے اور دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر مسلسل حملوں کی وجہ سے جولائی کے مہینے میں بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 25 فیصد کا اضافہ ہوا تھا۔ جولائی میں ہونے والی یہ تیزی مارچ کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں سب سے بڑا ماہانہ اضافہ تھا۔ خام تیل کی قیمتوں میں اس اضافے سے عالمی سطح پر مہنگائی کے حوالے سے نئی تشویش پیدا ہو گئی تھی۔

تاہم اب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بڑے حملے کی منصوبہ بندی منسوخ کرنے اور ایران کے ساتھ ایک بار پھر مذاکرات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کی وجہ سے بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں نرمی کا رجحان بنا ہوا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایران پر حملہ روکنے کا فیصلہ سعودی عرب سمیت مغربی ایشیا کے اتحادیوں کی درخواست پر لیا، جنہوں نے ان سے مذاکرات کے ذریعے معاہدہ کرنے کو کہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس شرط پر پیچھے ہٹنے کے لیے تیار ہوئے کہ فریقین آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے جلد معاہدہ کریں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande