
بیڑ، 3 اگست (ہ س): محمد رفیع کی آواز محض ایک آواز نہیں بلکہ احساس، جذبے اور موسیقیت کا دل نشیں امتزاج تھی۔ وہ برصغیر کے عظیم ہمہ جہت پلے بیک گلوکار تھے، جنہوں نے تقریباً 7,348 گیت گائے۔ انہیں 1967 میں پدم شری سے نوازا گیا، جبکہ وہ چھ فلم فیئر ایوارڈز اور ایک قومی ایوارڈ کے بھی مستحق قرار پائے۔ ان کی گائی ہوئی بے شمار دھنیں آج بھی موسیقی کے شائقین کے دلوں میں زندہ ہیں۔ ان خیالات کا اظہار محمد رفیع کے مداح منوج گھوگے نے ایک شام محمد رفیع صاحب کے نام پروگرام کے فنکاروں کی تہنیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر پرنسپل ڈی جی تاندلے، ڈاکٹر سنجے تاندلے، باجی راؤ ڈھاکنے اور دیگر مقررین نے بھی محمد رفیع کی فنی خدمات اور لازوال نغموں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ایم ایم شیخ، یوسف پٹھان اور ایس ایم یوسف کی جانب سے ہر سال کی طرح اس سال بھی بیڑ کے یشونت راؤ ناٹیہ گرہ میں ایک شام محمد رفیع صاحب کے نام پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر مختلف فنکاروں نے محمد رفیع کے مقبول نغمے پیش کر کے سامعین کو محظوظ کیا۔ پروگرام میں موسیقی کے شائقین کی بڑی تعداد موجود تھی اور ناٹیہ گرہ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔
بعد ازاں ماترو بھومی پرتشٹھان کی جانب سے سورا سنگیت اکیڈمی میں پروگرام میں شریک تمام فنکاروں کی شال، گل دستہ اور توصیفی سند پیش کر کے معزز مہمانوں کے ہاتھوں تہنیت کی گئی۔جن فنکاروں کو اعزاز سے نوازا گیا ان میں ایم ایم شیخ، یوسف پٹھان، ایس ایم یوسف، شیخ مظہر الدین، شیخ سیلانی، سید مجیب، آکاش جادھو، اسمیتا سوروسے، للتا لانڈگے، سندھیا جادھو، نشا اُجاگرے، کرشنا پانگرے، سید حسین اختر، ڈاکٹر جوشی اور دیگر فنکار شامل تھے۔ تقریب میں موسیقی سے محبت رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے