
ہوانا،3 اگست (ہ س)۔ کیوبا ایک بار پھر توانائی کے سنگین بحران کی زد میں ہے۔ نیشنل الیکٹریکل گرڈ کی خرابی کے باعث ملک بھر میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ، جس کے سبب قومی سطح پر بلیک آوٹ کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔سرکاری پاور کمپنی نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ گرڈ میں تکنیکی خرابی کے باعث پورے ملک کا بجلی کا نظام متاثر ہوا ہے۔ تاہم گرڈ فیل ہونے کی اصل وجوہات تاحال سامنے نہیں آسکی ہیں۔
ترکیہ کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق اگست میں یہ پہلا ملک گیربلیک آو¿ٹ ہے۔ اس سے قبل کیوبا کو جولائی میں ملک بھر میں تین بار قومی سطح پر بجلی کے بحران کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔ مسلسل بلیک آو¿ٹ نے ایک بار پھر ملک کے خستہ حال بجلی کے بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے گہرے ہوتے بحران کو بے نقاب کر دیا ہے۔
ملک بھر میں جاری بلیک آو¿ٹ سے عام زندگی پر خاصا اثر پڑ رہا ہے۔ شہریوں کو بجلی دستیاب ہونے کے محدود اوقات کے دوران ہی کھانا پکانے، کپڑے دھونے، موبائل فون اور دیگر آلات کو چارج کرنے، انٹرنیٹ کا استعمال کرنے اور شدید گرمی سے راحت حاصل کرنے جیسے روزمرہ کے کام مکمل کرنے پر مجبور ہیں۔غیر یقینی بجلی سپلائی کی وجہ سے لوگوں کے سامنے روزمرہ کی ضروریات مکمل کرنا بھی چیلنج بن گیا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ کیوبا پرانے پاور پلانٹس، ایندھن کی قلت اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر بڑھتے ہوئے دباو¿ کی وجہ سے طویل عرصے سے بجلی کے بحران سے دوچار ہے۔ بار بار گرڈ کی ناکامی نے صنعت، کاروبار اور عوامی خدمات کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔
کیوبا کی حکومت نے حالیہ مہینوں میں توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے کئی اصلاحاتی اقدامات کیے ہیں۔ وزیر اعظم مینوئل میریرو کروز نے جولائی میں اعلان کیا تھا کہ حکومت نے ایندھن کی درآمد اور فروخت کے لیے ملک کے پہلے غیر ملکی سرمایہ کاری کے مشترکہ منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ تقریباً 200 کمپنیوں کو ایندھن کی تھوک تقسیم کرنے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔
حکومت نے اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے سیاحت کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی تجاویز کی بھی منظوری دی ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ ان اصلاحات سے مستقبل میں توانائی کی مزید مستحکم فراہمی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔
وزیر اعظم مینوئل میریرو کروز نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں جو اصلاحات نافذ کی جا رہی ہیں، ان کے مثبت نتائج بتدریج سامنے آئیں گے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ موجودہ دور سب سے زیادہ چیلنجنگ ہے تاہم حکومت کو یقین ہے کہ جو اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ،ان سے مستقبل میں بجلی کے بحران کی شدت کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد