
ممبئی ، 3 اگست (ہ س)۔ ممبئی پولیس نے 9 لاکھ روپے کی مبینہ دھوکہ دہی کے ایک مقدمے میں گزشتہ 21 برس سے مفرور تاجر اودھوت چافیکر (65) کو گرفتار کر لیا۔ ملزم سال 2005 میں درج دھوکہ دہی کے مقدمے میں مطلوب تھا اور عدالت کی جانب سے اس کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ بھی جاری کیا گیا تھا، تاہم وہ مسلسل قانون کی گرفت سے بچتا رہا۔ پولیس کے مطابق ناسک کے رہائشی اودھوت چافیکر کو اس وقت گرفتار کیا گیا، جب وہ ووٹر فہرست کی خصوصی جامع نظرثانی (اسپیشل انٹینسیو ریویژن) کے سلسلے میں ممبئی آیا تھا۔ اسے باندرہ کرلا کمپلیکس (بی کے سی) کے ایک ہوٹل سے حراست میں لیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس سنجے گائیکواڑ نے پیر کو بتایا کہ ملزم کے خلاف سال 2005 میں گرفتاری کا وارنٹ جاری ہوا تھا، لیکن وہ طویل عرصے تک پولیس کی گرفت سے باہر رہا۔تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ ملزم نے اپنے نام سے رجسٹرڈ موبائل فون استعمال نہیں کیا، بلکہ دوسروں کی شناختی دستاویزات کے ذریعے حاصل کیے گئے موبائل نمبروں کا استعمال کر کے اپنی شناخت چھپائے رکھی۔ اس دوران وہ ناسک میں رہائش پذیر ہو گیا اور الیکٹریکل مینوفیکچرنگ کا کاروبار شروع کر دیا۔پولیس نے ملزم کی تلاش کے دوران ووٹر فہرست کی خصوصی نظرثانی میں مصروف حکام سے رابطہ کر کے درخواست کی تھی کہ اگر اودھوت چافیکر ووٹر ریکارڈ کی تصدیق کے لیے آئے تو فوری اطلاع دی جائے۔جیسے ہی ملزم دستاویزات کی تصدیق کے لیے ممبئی پہنچا اور متعلقہ حکام کے پاس اپنے کاغذات جمع کرائے، حکام نے درخواست میں درج رابطہ نمبر پولیس کو فراہم کر دیا۔اگرچہ موبائل نمبر کسی دوسرے شخص کے نام پر رجسٹرڈ تھا، تاہم پولیس نے تکنیکی تحقیقات اور خفیہ معلومات کی مدد سے ملزم کا سراغ لگا لیا اور اسے باندرہ کرلا کمپلیکس کے ایک ہوٹل سے گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق مقدمے میں مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے