
حیدرآباد ، 3 اگست (ہ س)۔ نوکریوں کے نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے سے مایوس ہوکر مبینہ طور پر خودکشی کی کوشش کرنے والے نوجوان وینوکمارسے سابق وزیر پی اجئے کمار سمیت بی آرایس قائدین نے ہاسپیٹل میں ملاقات کی اور ان کی عیادت کی۔
وینوکمار اس وقت ہاسپٹل میں زیرعلاج ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ انہوں نے کانگریس حکومت کی جانب سے ملازمتوں کے وعدوں کی تکمیل نہ ہونے پر شدید مایوسی کااظہار کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس نے اقتدار میں آنے سے قبل جاب کیلنڈر اور ہر سال 2 لاکھ ملازمتیں فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اب بے روزگارنوجوان خود کو دھوکہ کھایا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔
وینو کمار نے اپنی پریشانی بیان کرتے ہوئے کہا کہ بے روزگار نوجوانوں نے محنت کرکے کانگریس کو اقتدار تک پہنچایا، لیکن اب انہیں ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ حالیہ پولیس بھرتی کے نوٹیفکیشن بھی بے روزگار امیدواروں کو مطمئن نہیں کرسکے۔
انہوں نے وزیراعلی اے ریونت ریڈی کے بیانات پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ حکومت کے اقدامات سے بے روزگار نوجوانوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔
وینو کمارنے اپنی خاندانی صورتحال کا ذکرکرتے ہوئے بتایا کہ ان کی والدہ ذہنی طورپرمعذور ہیں جبکہ والد کی طبیعت بھی خراب رہتی ہے، جس کے باعث خاندان کی ذمہ داری ان کے کندھوں پرہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اندراما ہاؤز کے لیے بھی کئی مرتبہ درخواستیں دے چکے ہیں، لیکن ان کی درخواست پرکوئی توجہ نہیں دی گئی۔
بی آر ایس قائدین نے وینو کمار اور ان کے خاندان سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے انہیں ہرممکن تعاون کا یقین دلایا۔ قائدین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بے روزگار نوجوانوں کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کیا جائے، زیر التوا بھرتیوں کے نوٹیفکیشن جاری کیے جائیں اورروزگار سے متعلق وعدوں کو پورا کیا جائے۔
اس واقعے نے ایک بار پھرتلنگانہ میں بے روزگارنوجوانوں کی جانب سے سرکاری ملازمتوں، بھرتی کے نوٹیفکیشن اور روزگار کے مواقع سے متعلق اٹھائے جانے والے سوالات کو اجاگر کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق