بامبے ہائی کورٹ نے نوی ممبئی کے ریسٹورنٹ کا لائسنس معطل کرنے کا حکم منسوخ کیا
ممبئی ، 3 اگست (ہ س): بامبے ہائی کورٹ نے نوی ممبئی کے بیلاپور میں واقع ہوٹل پون بار اینڈ ریسٹورنٹ کے فوڈ لائسنس کی معطلی سے متعلق مہاراشٹر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کا حکم منسوخ کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ جب دوبارہ معائنے میں ریسٹورنٹ کو ف
BOMBAY HC FDA RESTAURANT


ممبئی ، 3 اگست (ہ س): بامبے ہائی کورٹ نے نوی ممبئی کے بیلاپور میں واقع ہوٹل پون بار اینڈ ریسٹورنٹ کے فوڈ لائسنس کی معطلی سے متعلق مہاراشٹر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کا حکم منسوخ کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ جب دوبارہ معائنے میں ریسٹورنٹ کو فوڈ سیفٹی کے تمام ضابطوں پر مکمل عمل درآمد کرنے والا قرار دیا گیا تو اس کے باوجود لائسنس کی معطلی برقرار رکھنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔

قائم مقام چیف جسٹس رویندر گھوگے اور جسٹس گوتم انکھاد پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سماعت کے دوران ایف ڈی اے سے استفسار کیا کہ سو فیصد ضابطوں کی تعمیل کی تصدیق کے باوجود لائسنس کی معطلی ختم کیوں نہیں کی گئی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ریسٹورنٹ مالک کو ہونے والے مالی نقصان کے پیش نظر محکمہ پر اخراجات بھی عائد کیے جا سکتے ہیں۔یہ معاملہ ہوٹل پون بار اینڈ ریسٹورنٹ کی جانب سے دائر درخواست پر سامنے آیا۔ درخواست گزار کے مطابق 29 جون کو ایف ڈی اے کے معائنے میں ریسٹورنٹ کو 63 فیصد ضابطوں پر عمل کرنے والا قرار دیا گیا تھا، جس کے بعد 30 جون کو اس کا فوڈ لائسنس معطل کر دیا گیا۔

درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ تمام خامیاں دور کرنے کے بعد قانونی اپیل دائر کی گئی اور دوبارہ معائنہ کرایا گیا، جس میں ریسٹورنٹ کو سو فیصد ضابطوں پر پورا اترنے والا قرار دیا گیا، لیکن اس کے باوجود لائسنس کی معطلی برقرار رکھی گئی۔6 جولائی کو دائر اپیل پر 28 جولائی کو سماعت ہوئی، تاہم کوئی عبوری راحت دیے بغیر اسے 4 اگست تک ملتوی کر دیا گیا۔سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ اگر ادارہ تمام ضابطوں پر عمل کر چکا تھا تو ریسٹورنٹ بند رہنے سے ہونے والے مالی نقصان کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ اگرچہ ایف ڈی اے کی جانچ مہم قابلِ ستائش ہے، لیکن جب محکمہ خود ضابطوں کی مکمل تعمیل کی تصدیق کر چکا تھا تو اس کے بعد بھی لائسنس معطل رکھنا مناسب نہیں تھا۔

عدالت نے معطلی کا حکم منسوخ کرتے ہوئے درخواست گزار کو ہدایت دی کہ وہ 14 جولائی سے ریسٹورنٹ بند رہنے کے باعث ہونے والے مالی نقصان کی تفصیلات حلف نامے کی صورت میں پیش کرے۔ اس معاملے کی آئندہ سماعت 5 اگست کو ہوگی، جس میں اخراجات عائد کیے جانے کے معاملے پر غور کیا جائے گا۔عدالت نے یہ بھی یاد دلایا کہ چند روز قبل ایک دوسری سماعت کے دوران ایف ڈی اے کی مبینہ امتیازی کارروائی پر بھی تشویش ظاہر کی گئی تھی۔ عدالت نے اس وقت سوال اٹھایا تھا کہ جب منترالیہ کی کینٹینیں 93 فیصد ضابطوں پر عمل کرتی ہوئی پائی گئی تھیں اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی، تو دیگر اداروں کے ساتھ مختلف رویہ کیوں اختیار کیا گیا۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande