
حیدرآباد ، 3 اگست (ہ س)۔ عادل آباد ضلع پولیس نے ماولا پولیس اسٹیشن حدود کے کیلاش نگرمیں ایک معروف سیاسی رہنما کے مکان میں پیش آئی چوری کی واردات کا کامیابی کے ساتھ پردہ فاش کرتے ہوئے بین الاقوامی اوربین الریاستی چوروں کے ایک خطرناک گروہ کے تین ارکان کو گرفتار کرلیا۔ گرفتارشدگان میں دو بنگلہ دیشی شہری اورایک ہندوستانی شامل ہیں۔
ضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اکھل مہاجن، آئی پی ایس نے ضلع پولیس ہیڈکوارٹرمیں منعقدہ پریس کانفرنس کوبتایا کہ گرفتارملزمان کی شناخت محمد جانی علی عرف جانی علی(30)،محمد رومان علی (33) دونوں ضلع دیناج پور،بنگلہ دیش کے باشندے، اورترن سنگھ (29)، ساکن بھوپال، مدھیہ پردیش کے طور پرہوئی ہے۔
ایس پی نے بتایا کہ تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ مرکزی ملزم محمد جانی علی سال 2015 سے راجستھان، اڈیسہ، کرناٹک، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش،مہاراشٹراورتلنگانہ سمیت مختلف ریاستوں میں گھروں میں نقب زنی اوردوپہیہ گاڑیوں کی چوری کی متعدد وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔ وہ غیر قانونی طور پربنگلہ دیش سے ہندوستان میں داخل ہواتھااوراس نے جعلی آدھارکارڈ بھی حاصل کررکھا تھا۔
تحقیقات سے یہ بھی انکشاف ہوا کہ وہ11 جولائی کو دوبارہ بنگلہ دیش سے غیر قانونی طور پرہندوستان میں داخل ہوااوراپنے ساتھیوں کے ساتھ مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر کے راستے عادل آباد پہنچ کر کیلاش نگر میں چوری کی واردات انجام دی۔
پولیس کے مطابق یہ گروہ دن کے وقت پریشر ککر اور گرائنڈر فروخت کرنے والے دکانداروں کا بھیس بدل کر رہائشی کالونیوں کی نگرانی کرتا تھا اور رات کے وقت گھروں کے تالے توڑ کرقیمتی سامان چرالیتا تھا۔ مزید تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ محمد جانی علی گزشتہ کئی برسوں کے دوران تقریباً10سے 12 مرتبہ غیر قانونی طور پر بنگلہ دیش سے ہندوستان آیا اور مختلف ریاستوں میں وارداتیں انجام دینے کے بعد دوبارہ بنگلہ دیش فرار ہوجاتا تھا تاکہ گرفتاری سے بچ سکے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ وہ 12 سے 15 بنگلہ دیشی افراد پر مشتمل ایک بڑے جرائم پیشہ نیٹ ورک کا حصہ ہے، جو اسی طرز پرغیرقانونی طور پرہندوستان میں داخل ہو کر چوریاں کرتا اور واپس فرار ہو جاتا ہے۔
پولیس نے گرفتار ملزمان کے قبضہ سے 73.05 گرام سونا، 151.30 گرام چاندی، 4,270 روپے نقد، پانچ آئی فون، دو سام سنگ موبائل فون، ایک ایپل آئی پیڈ اور واردات میں استعمال ہونے والی ایک موٹر سائیکل برآمد کی ہے۔ برآمد شدہ املاک کی مجموعی مالیت تقریباً آٹھ لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ برآمد شدہ سونے میں 50.75 گرام عادل آباد کے مقدمہ سے جبکہ 22.30 گرام ناگپور کے ایک مقدمہ سے متعلق ہے۔
ایس پی اکھل مہاجن نے بتایا کہ تکنیکی شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیج، سرویلنس اور مختلف ریاستوں کی پولیس کے تعاون سے اس پیچیدہ کیس کو قلیل مدت میں حل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مفرور ملزمان، ان کے سہولت کاروں، غیر قانونی قیام میں مدد دینے والوں اور جعلی شناختی دستاویزات فراہم کرنے والے افراد کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور دیگر ریاستوں کی پولیس کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے غیر قانونی غیر ملکی شہریوں اور بین الاقوامی و بین الریاستی جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی آئندہ بھی جاری رہے گی۔
اس موقع پر ایس پی نے ماولا سرکل انسپکٹر بی ڈی پریم کمار، سی سی ایس انسپکٹر چندرشیکھر، سائبر کرائم سب انسپکٹر گوپی کرشنا، کرائم ٹیم کے رکن سرینواس، ہیڈ کانسٹیبل شبیر، نریش، ستیش، ریاض اور دیگر پولیس اہلکاروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں مبارکباد دی۔ پریس کانفرنس میں ڈی ایس پی ایل جیون ریڈی، ماولا سی آئی بی ڈی پریم کمار، سی سی ایس انسپکٹر چندرشیکھر، سائبر کرائم ایس آئی گوپی کرشنا اور دیگر پولیس افسران بھی موجود تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق