سی بی جی کی قیمتوں میں اضافے سے سی این جی اور پی این جی صارفین پر کوئی خاص بوجھ نہیں پڑے گا، مرکز نے خدشات کو مسترد کیا
نئی دہلی، 29 اگست (ہ س)۔ مرکزی حکومت نے ان خدشات کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ گوبردھن یوجنا کے تحت کمپریسڈ بایو گیس (سی بی جی) کی نظر ثانی شدہ قیمت خرید سے کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) اور ڈومیسٹک پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) کے صارف
Revised-CBG-pricing-support-producers-consumer-imp


نئی دہلی، 29 اگست (ہ س)۔ مرکزی حکومت نے ان خدشات کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ گوبردھن یوجنا کے تحت کمپریسڈ بایو گیس (سی بی جی) کی نظر ثانی شدہ قیمت خرید سے کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) اور ڈومیسٹک پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) کے صارفین پر بھاری اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔

پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت نے ہفتہ کو ایک بیان میں کہا کہ گوبردھن اسکیم کے تحت کمپریسڈ بایو گیس کے لیے نظرثانی شدہ قیمتوں کے طریقہ کار کا مقصد پروڈیوسروں کو مستحکم قیمتیں فراہم کرنا اور سی این جی اور گھریلو پی این جی صارفین پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنا ہے۔ نظرثانی شدہ کمپریسڈ بایو گیس کی قیمتوں کی پالیسی ہندوستان میں سبز توانائی کی پیداوار کو فروغ دینے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ یہ پالیسی بنیادی طور پر پروڈیوسر کو مالی استحکام اور مراعات فراہم کرتی ہے، جبکہ اس کا عام صارفین کی جیبوں پر براہ راست یابھاری بوجھ نہیں پڑتا۔

وزارت نے واضح کیا کہ اس طرح کے تخمینے متضاد مفروضوں پر مبنی ہیں اور اصل اثر کافی محدود ہوگا۔ موجودہ قیمتوں کے نظام کے تحت، سی بی ڈی پروڈیوسرز کو ادائیگیاں سی این جی کی خوردہ فروخت کی قیمت کے 85فیصد سے منسلک ہیں۔ تازہ ترین نظام کے مطابق، یہ قیمت تقریباً 1,478 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو پڑتی ہے۔ نظرثانی شدہ گوبردھن فریم ورک کے تحت، سی بی ڈی کی خریداری کی قیمت 2,110 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے۔ یہ موجودہ قیمت سے تقریباً 43فیصد زیادہ ہے۔

حالانکہ وزارت نے کہا کہ یہ قیمت صرف پروڈیوسروں کو ادا کی جانے والی خریداری کی قیمت ہے۔ یہی رقم براہ راست سی این جی یا گھریلو پی این جی صارفین سے وصول نہیں کی جاتی ہے۔ حکومت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہسی بی جی کو فروغ دینے کے لیے 10 روپے فی کلوگرام کی شرح سے قابل برداشت امداد فراہم کی جائے گی۔

وزارت نے کہا کہ پانچ فیصد میتھین پر مشتمل سی بی جی کے لیے یہ سبسڈی تقریباً 215 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کے برابر ہوگی۔ یہ رقم حکومت برداشت کرے گی جس سے صارفین پر پڑنے والے اضافی بوجھ میں مزید کمی آئے گی۔ وزارت کے مطابق، حکومتی سبسڈی کو ایڈجسٹ کرنے کے بعد، گیس صارفین کے ذریعے وصول ہونے والی مو¿ثر سی بی جی لاگت تقریباً 1,895 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہوگی۔ یہ 1,478 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کی موجودہ موثر لاگت سے تقریباً 28 فیصد زیادہ ہے۔

درحقیقت، اصل اضافہ خریداری کی قیمتوں میں نظر آ رہی 43 فیصد اضافے سے بہت کم ہے۔ حکومت نے واضح کیا کہ سی بی جی براہ راست سٹی گیس ڈسٹری بیوشن (سی جی ڈی) کمپنیوں کو اس کی خرید قیمت پر فروخت نہیں کیا جاتا ہے۔ اس کے بجائے اسے دیگر گھریلو قدرتی گیس کے ساتھ ایک عام گیس پول میں ملایا جاتا ہے اور لاگت پورے گھریلو گیس پول میں تقسیم کی جاتی ہے۔

وزارت نے وضاحت کی کہ پرانے نظام کے تحت، سی بی جی کی لاگت صرف ایڈمنسٹرڈ پرائس میکانزم (اے پی ایم) کے تحت مختص گیس کی محدود مقدار پر تقسیم کی جاتی تھی، جو بنیادی طور پر ٹرانسپورٹ سیکٹر اور گھریلو پی این جی صارفین میں سی این جی کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ نئے بندوبست کے تحت، سی بی جی کی خالص قیمت ایک بہت بڑے گھریلو گیس بیس پر تقسیم کی جائے گی، جو پہلے سے تقریباً 2.5 سے 3 گنا زیادہ ہے۔

وزارت پٹرولیم نے کہا کہ اس سے فی صارف لاگت پر اثر نمایاں طور پر کم ہو جائے گا۔ مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ قیمتوں کے نظرثانی شدہ طریقہ کار کا مقصد سی بی ڈی کی پیداوار کو بڑھانا، نامیاتی فضلہ کے بہتر استعمال کی حوصلہ افزائی کرنا اور صاف توانائی کے استعمال کو بڑھانا ہے۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande