
چنئی، 28 اگست (ہ س)۔
تمل ناڈو حکومت نے نیپال میں آنے والے سیلاب میں پھنسے 100 سے زائد تمل باشندوں کو بچانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر قومی دارالحکومت دہلی پہنچنے والے چار وزراء نے آدھی رات کو میٹنگ کر کے صورتحال کا جائزہ لیا۔ دہلی میں واقع تمل ناڈو بھون کے ایڈیشنل کمشنر کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نیپال کے دارالحکومت کاٹھمانڈو کے لیے روانہ ہو گیا ہے۔
پڑوسی ملک نیپال میں بدھ کے روز رسوا ضلع میں واقع بھوٹے کوشی ندی میں آنے والے سیلاب کی وجہ سے وہاں کے پل اور سڑکیں بری طرح تباہ ہو گئی ہیں۔ اس قدرتی آفت میں کیلاش مانسروور یاترا اور سیاحت کے لیے تمل ناڈو سے نیپال جانے والے 100 سے زائد تمل افراد پھنسے ہوئے ہیں۔ انہیں بحفاظت وطن واپس لانے کے لیے وزیر اعلیٰ کی صدارت میں منعقدہ ہنگامی میٹنگ میں بچاو کاموں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
بچاو کاموں کو مرکز اور نیپال میں واقع ہندوستانی سفارت خانے کے ساتھ مل کر براہ راست مربوط کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر چار وزراء پر مشتمل ایک وفد دہلی پہنچا ہے۔ وزراء آد ارجنا، راج موہن، تھین ارسو اور ونود پر مشتمل یہ وفد دہلی پہنچنے کے بعد کل رات تقریباً ایک بجے دہلی کے ’تمل ناڈو بھون‘ میں ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس میں دہلی میں تعینات تمل ناڈو کے سینئر آئی اے ایس افسران نے بھی شرکت کی۔
اس اعلیٰ سطحی میٹنگ میں نیپال کے سیلاب میں اب تک کتنے تمل باشندوں کو بچایا گیا ہے، فی الحال کتنے افراد سیلاب میں پھنسے ہوئے ہیں، کیا وہ وطن واپس آنے کے لیے تیار ہیں اور لاپتہ افراد کی تعداد کتنی ہے، سمیت کئی اہم تفصیلات پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ اس کے علاوہ، وہاں سے موصول ہونے والی واٹس ایپ وائس ریکارڈنگ اور اطلاعات کی بنیاد پر وزراء نے افسران سے زمینی صورتحال کی معلومات بھی حاصل کیں۔
اس کے ساتھ ہی اضافی اقدام کے طور پر، دہلی میں واقع تمل ناڈو بھون کے ایڈیشنل کمشنر آشیش کمار کی قیادت میں سینئر آئی اے ایس افسران کے ایک وفد کو کاٹھمانڈو بھیجنے کا تمل ناڈو حکومت نے حکم دیا ہے۔ یہ وفد کاٹھمانڈو پہنچ کر نیپال حکومت اور ہندوستانی سفارت خانے کے حکام کے ساتھ مل کر بچاو کاموں کی براہ راست نگرانی کرے گا۔ اس کے علاوہ، ریاست میں پھنسے تمل افراد اور ان کے اہل خانہ کو فوری رابطے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے تمل ناڈو حکومت نے 24 گھنٹے فعال رہنے والا کنٹرول روم اور ہنگامی ہیلپ لائن نمبرز بھی باضابطہ طور پر جاری کر دیے ہیں اور یہ خدمات شروع ہو گئی ہیں۔ نیپال میں پیدا ہونے والی سنگین صورتحال کے پیش نظر، ضرورت پڑنے پر دہلی میں مقیم وزراء کا وفد خود براہ راست نیپال کا دورہ کرے، اس پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن