
تلنگانہ اوپن : راشد خان نے سات سال بعد خطاب جیتا، تین شاٹس سے جیت درج کی
ویکارآباد، 28 اگست (ہ س)۔ دہلی کے تجربہ کار گولفر راشد خان نے سات سال کے طویل انتظار کو ختم کرتے ہوئے تلنگانہ اوپن-2026 کا خطاب اپنے نام کر لیا ہے۔ ووٹی گولف کاونٹی میں کھیلے گئے ایک کروڑ روپے انعامی رقم والے ٹورنامنٹ کے آخری راونڈ میں پانچ انڈر 67 کا اسکور کرتے ہوئے راشد نے تین شاٹس کے فرق سے جیت درج کی۔
35 سالہ راشد نے چاروں راونڈز میں 66، 67، 65 اور 67 کا اسکور کیا اور مجموعی طور پر 23 انڈر 265 کے اسکور کے ساتھ اپنا 15 واں پیشہ ورانہ خطاب جیتا۔ یہ ڈی پی ورلڈ پی جی ٹی آئی میں ان کی 11 ویں جیت ہے۔ خطاب کے ساتھ راشد نے 15 لاکھ روپے کی انعامی رقم حاصل کی اور 2026 ڈی پی ورلڈ پی جی ٹی آئی آرڈر آف میرٹ میں چھٹے نمبر پر پہنچ گئے۔ ان کی اس سیزن کی کل کمائی 44,95,509 روپے ہو گئی ہے۔
راشد کی پچھلی ڈی پی ورلڈ پی جی ٹی آئی جیت مئی 2019 میں چندی گڑھ گولف کلب کے زیر اہتمام پی جی ٹی آئی پلیئرز چیمپئن شپ میں سامنے آئی تھی۔ سات سال کی جدوجہد کے بعد جیت کی واپسی کو انہوں نے ایک جذباتی لمحہ قرار دیا۔ راشد نے کہا، ’’میں اس وقت کیسا محسوس کر رہا ہوں، اسے لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا۔ میری پچھلی جیت کو سات سال گزر چکے ہیں اور اس دوران میں نے اپنے کھیل میں سخت جدوجہد کی۔ کئی اتار چڑھاو آئے، لیکن میں نے بہت کچھ سیکھا۔ جب آپ ایسے دور سے گزرتے ہیں تو آپ کو سمجھ آتا ہے کہ آپ کو دراصل کیا کرنا ہے۔‘‘
راشد آخری راونڈ کا آغاز سرفہرست رہنے والے انگد چیما سے دو شاٹس پیچھے رہ کر کر رہے تھے۔ انہوں نے ابتدائی دو ہولز میں بوگی کر کے خراب شروعات کی، لیکن تیسرے سے پانچویں ہول تک مسلسل تین برڈیز لگا کر شاندار واپسی کی۔ آٹھویں ہول پر ایک اور برڈی کے بعد انہوں نے برتری اپنے کنٹرول میں کر لی۔ انہوں نے کہا، ’’میری شروعات انتہائی خراب رہی۔ پہلے ہی پار-5 پر بوگی ہو گئی اور دوسرا ہول بھی کافی مشکل تھا۔ اس کے باوجود مجھے معلوم تھا کہ اگر میں اپنے منصوبے پر قائم رہا اور برڈی کے مواقع پیدا کرتا رہا تو واپسی کر سکتا ہوں۔ تیسرے، چوتھے اور پانچویں ہول کی برڈی فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی۔‘‘
انگد چیما نے فرنٹ نائن میں تین بوگی کیں، جس سے راشد نے ٹرن تک تین شاٹس کی برتری حاصل کر لی۔ اس کے بعد راشد نے 10 ویں سے 12 ویں ہول تک مسلسل تین برڈیز لگا کر اپنی پوزیشن مزید مستحکم کر لی۔ 15 ویں ہول پر حاصل کیا گیا پار راشد کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوا۔ انہوں نے بتایا، ’’میرے پاس پار کے لیے 13-12 فٹ کا پٹ تھا، جبکہ انگد کے پاس برڈی کے لیے 10 فٹ سے کم کا موقع تھا۔ وہ لمحہ ٹورنامنٹ کا فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔‘‘
دہلی کے ہنی بیسویا نے آخری راونڈ میں نو برڈیز اور دو بوگی کے ساتھ سات انڈر 65 کا شاندار اسکور کیا۔ وہ مجموعی طور پر 20 انڈر 268 کے اسکور کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ انہیں 10 لاکھ روپے کی انعامی رقم ملی۔ وہ سیزن کی کمائی کے معاملے میں 51,72,092 روپے کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔
گروگرام کے ویر اہلاوت نے بھی آخری راونڈ میں 65 کا اسکور کیا اور مجموعی طور پر 19 انڈر 269 کے اسکور کے ساتھ انگد چیما کے ساتھ مشترکہ طور پر تیسرے نمبر پر رہے۔
چیما، جو تیسرے راونڈ کے بعد سرفہرست تھے، آخری راونڈ میں 73 کا اسکور کرنے کی وجہ سے خطاب کی دوڑ سے باہر ہو گئے۔ موجودہ ڈی پی ورلڈ پی جی ٹی آئی رینکنگ کے ٹاپ کھلاڑی سپتک تلوار 281 کے مجموعی اسکور کے ساتھ مشترکہ طور پر 24 ویں مقام پر رہے۔ انہیں 1,14,450 روپے ملے اور ان کی سیزن کی کل کمائی 87,47,684 روپے ہو گئی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن