
شملہ، 28 اگست (ہ س)۔ ہماچل پردیش میں پچھلے کچھ دنوں سے قدرے کمزور ہوا مانسون آنے والے دنوں میں دوبارہ فعال ہو سکتا ہے۔ محکمہ موسمیات نے 31 اگست سے 3 ستمبر تک ریاست میں الگ الگ مقامات پر شدید بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ ان چار دنوں کے دوران کچھ حصوں کے لیے ایلو الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ ایسی صورت حال میں ستمبر کا مہینہ ریاست کے کچھ علاقوں میں شدید بارش کے ساتھ شروع ہونے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق ریاست میں 29 اور 30 اگست کو موسم خراب رہنے کے ساتھ ساتھ کئی مقامات پر بارش کا امکان ہے۔ تاہم ان دو دنوں کے لیے کوئی انتباہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔ 31 اگست اور یکم ستمبر کو چند مقامات پر شدید بارش ہو سکتی ہے۔ 2 اور 3 ستمبر کو الگ الگ مقامات پر شدید بارش کا بھی امکان ہے۔ محکمہ کے مطابق اس دوران بارش کی سرگرمی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ریاست کے کئی حصوں میں شدیدبارش بھی ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ 51 ملی میٹر بارش سرمور ضلع کے ناہن میں ریکارڈ کی گئی۔ برٹھی (بلاسپور) میں 34.8 ملی میٹر، دھولا کوان آٹومیٹک ویدر اسٹیشن (سرمور) میں 34.5 ملی میٹر، دھرم شالا (کانگڑا) میں 28.3 ملی میٹر اور نینا دیوی (بلاس پور) میں 28.2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ، گلیر (کانگڑا) میں 20.1 ملی میٹر، آر ایل بی بی ایم بی (بلاس پور) میں 18.6 ملی میٹر، اور رائے پور میدان (اونا) میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
اس دوران ریاست میں کہیں بھی برف باری، دھند، گرج چمک یا ڑالہ باری ریکارڈ نہیں کی گئی۔ آسمانی بجلی گرنے کے کسی واقعے کی بھی اطلاع نہیں ملی۔ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کی بنیاد پر کسی بھی علاقے میں شدیدگرمی کے حالات نہیں تھے۔
جمعہ کو دارالحکومت شملہ میں بھی صبح سے ابر آلود رہا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند دنوں میں بارش کا امکان ہے۔ مون سون کی سرگرمیوں میں اضافے کے ساتھ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور سڑکوں کے متاثر ہونے کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
اسٹیٹ ایمرجنسی آپریشن سنٹر کے مطابق جمعہ کی صبح تک ریاست میں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے 68 سڑکیں بند تھیں۔ ان میں سے سب سے زیادہ 28 سڑکیں منڈی ضلع میں اور 16 کلّو ضلع میں بند کی گئیں۔ اس کے علاوہ 16 پاور ٹرانسفارمرز بھی گر گئے اور پینے کے پانی کی ایک اسکیم متاثر ہوئی۔ منڈی ضلع میں چھ، سرمور میں پانچ اور چمبا ضلع میں چار پاور ٹرانسفارمر گر گئے۔
ریاست میں اس مانسون کے موسم کے دوران بارش اور اس سے وابستہ واقعات سے ہونے والے نقصان میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ اسٹیٹ ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق 30 جون سے اب تک ایسے واقعات میں 247 افراد ہلاک اور 396 زخمی ہو چکے ہیں۔ اس دوران 96 مکانات، 17 دکانیں اور 377 مویشیوں کے شیڈ مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ 429 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔
ریاست میں مانسون کی وجہ سے ہونے والے املاک کے نقصان کا تخمینہ اب تک تقریبا 1,183 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے آنے والے دنوں میں بارش میں اضافے کی پیش گوئی کے ساتھ انتظامیہ اور لوگوں کے لیے لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ علاقوں میں خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی