(اپ ڈیٹ) موپ شاپ ڈسٹری بیوشن نے سرمایہ کاروں کو مایوس کیا، ڈسکاونٹ لسٹنگ کے بعد لوئر سرکٹ لگا
نئی دہلی، 26 اگست (ہ س)۔ فیسلٹی مینجمنٹ سپلائی (ایف ایم ایس) سیکٹر میں کام کرنے والی کمپنی موپ شاپ ڈسٹری بیوشن لمیٹڈ کے شیئرز نے آج اسٹاک مارکیٹ میں کمزور آغاز کرتے ہوئے اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو مایوس کیا۔ آئی پی اوکے تحت کمپنی کے شیئرز 138 ر
شیئر


نئی دہلی، 26 اگست (ہ س)۔ فیسلٹی مینجمنٹ سپلائی (ایف ایم ایس) سیکٹر میں کام کرنے والی کمپنی موپ شاپ ڈسٹری بیوشن لمیٹڈ کے شیئرز نے آج اسٹاک مارکیٹ میں کمزور آغاز کرتے ہوئے اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو مایوس کیا۔ آئی پی اوکے تحت کمپنی کے شیئرز 138 روپے کی قیمت پر جاری کیے گئے تھے۔ آج بی ایس اے کے ایس ایم ای پلیٹ فارم پر اس کی لسٹنگ 0.72 فیصد ڈسکاونٹ کے ساتھ 137 روپے کی سطح پر ہوئی۔

لسٹنگ کے بعد دوپہر1:30 بجے تک اس شیئر میں کوئی خاص سرگرمی نہیں ہوئی۔ یعنی نہ تو اس کی خریداری ہوئی اور نہ ہی فروخت، لیکن اس کے بعد اچانک شیئر کی فروخت شروع ہو گئی، جس کے باعث تھوڑی ہی دیر میں یہ 130.15 روپے کی لوئر سرکٹ سطح پر پہنچ گیا۔ پورے دن کی تجارت کے اختتام پر بھی یہ شیئر 130.15 روپے، یعنی لوئر سرکٹ کی سطح پر ہی بند ہوا۔ اس طرح پہلے دن کی تجارت میں کمپنی کے آئی پی او سرمایہ کاروں کو فی شیئر 7.85 روپے، یعنی 5.69 فیصد کا نقصان ہوا۔

کمپنی کا 27.26 کروڑ روپے کا آئی پی او 19 سے 21 اگست کے درمیان سبسکرپشن کے لیے کھلا تھا۔ اس آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی جانب سے معمولی ردعمل ملا، جس کی وجہ سے یہ مجموعی طور پر صرف 1.59 گنا سبسکرائب ہوا۔ ان میں نان انسٹی ٹیوشنل انویسٹرز (این آئی آئی) کے لیے مختص حصے میں صرف 0.27 گنا سبسکرپشن آیا، جبکہ ریٹیل سرمایہ کاروں کے لیے مختص حصہ 2.91 گنا سبسکرائب ہوا۔

اس آئی پی اوکے تحت 10 روپے کی فیس ویلیو والے کل 19.75 لاکھ شیئرز جاری کیے گئے ہیں۔ ان میں تقریباً 5 کروڑ روپے مالیت کے 3.75 لاکھ شیئرز آفر فار سیل (او ایف ایس) ونڈو کے ذریعے فروخت کیے گئے، جبکہ تقریباً 22 کروڑ روپے مالیت کے 16 لاکھ نئے شیئرز جاری کیے گئے۔ آئی پی او کے ذریعے حاصل ہونے والی رقم کمپنی کمرشل گاڑیوں کی خریداری، روف ٹاپ گرڈ سولر پاور پلانٹ قائم کرنے، پرانے قرض کو کم کرنے، آئی پی او سے متعلق اخراجات کی ادائیگی اور عمومی کارپوریٹ مقاصد کے لیے استعمال کرے گی۔

موپ شاپ ڈسٹری بیوشن لمیٹڈ کی مالی حالت کی بات کریں تو کیپٹل مارکیٹ ریگولیٹر سیبی کے پاس جمع کرائے گئے ڈرافٹ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی) میں کیے گئے دعوے کے مطابق کمپنی کی مالی صحت مسلسل مضبوط ہوئی ہے۔ مالی سال 2023تا2024 میں کمپنی کو 81 لاکھ روپے کا خالص منافع ہوا تھا، جو اگلے مالی سال 2024تا2025 میں بڑھ کر 1.42 کروڑ روپے ہو گیا۔ گزشتہ مالی سال 2025تا2026 میں کمپنی کا خالص منافع 3.48 کروڑ روپے رہا۔

اس دوران کمپنی کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023تا2024 میں اسے 30.02 کروڑ روپے کی مجموعی آمدنی حاصل ہوئی، جو 2024تا2025 میں بڑھ کر 37.86 کروڑ روپے ہو گئی۔ گزشتہ مالی سال 2025تا2026 میں کمپنی کو 42 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی۔

اس عرصے میں کمپنی کے قرض میں اتار چڑھاو¿ آتا رہا۔ مالی سال 2023تا2024 کے اختتام پر کمپنی پر 3.92 کروڑ روپے کا قرض تھا، جو اگلے مالی سال 2024تا2025 میں بڑھ کر 6.59 کروڑ روپے ہو گیا۔ گزشتہ مالی سال 2025تا2026 میں کمپنی کا قرض کم ہو کر 5.14 کروڑ روپے رہ گیا۔

اسی عرصے میں کمپنی کی نیٹ ورتھ میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023تا2024 میں یہ 1.25 کروڑ روپے تھی، جو 2024تا2025 میں بڑھ کر 2.92 کروڑ روپے ہو گئی۔ گزشتہ مالی سال 2025تا2026میں کمپنی کی نیٹ ورتھ بڑھ کر 6.74 کروڑ روپے ہو گئی۔

کمپنی کے ریزرو اور سرپلس میں بھی اس دوران اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023تا2024 میں یہ 1.15 کروڑ روپے تھا، جو 2024تا2025 میں بڑھ کر 2.57 کروڑ روپے ہو گیا۔ گزشتہ مالی سال2025تا2026 میں کمپنی کا ریزرو اور سرپلس 6.04 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔

اسی طرح ای بی آئی ٹی ڈی اے (ارننگ بیفور انٹریسٹ ،ٹیکسز،ڈپریشیئیشنس اینڈ ایمارٹائزیشن) 2023تا2024میں 6.15 کروڑ روپے تھی، جو 2024تا2025میں کم ہو کر 2.92 کروڑ روپے رہ گئی۔ گزشتہ مالی سال2025تا2026 میں کمپنی کا ای بی آئی ٹی ڈی اے مزید کم ہو کر 1.39 کروڑ روپے ہو گیا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande