’ون نیشن، ون الیکشن‘ پر جے پی سی کی اہم میٹنگ، پی پی چودھری بولے—99 فیصد اسٹیک ہولڈرز حمایت میں
نئی دہلی، 24 اگست (ہ س)۔ ”ایک ملک، ایک انتخاب“ کی تجویز پر غور کرنے والی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کی پیر کو اہم میٹنگ ہوئی۔ پارلیمنٹ ہاو¿س انیکسی میں ہونے والی اس میٹنگ میں اپوزیشن کے کئی اہم رہنماو¿ں نے بھی شرکت کی۔ جے پی سی 129وی
’ایک ملک، ایک انتخاب‘ پر جے پی سی کی اہم میٹنگ، پی پی چودھری بولے—99 فیصد اسٹیک ہولڈرز حمایت میں


نئی دہلی، 24 اگست (ہ س)۔

”ایک ملک، ایک انتخاب“ کی تجویز پر غور کرنے والی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کی پیر کو اہم میٹنگ ہوئی۔ پارلیمنٹ ہاو¿س انیکسی میں ہونے والی اس میٹنگ میں اپوزیشن کے کئی اہم رہنماو¿ں نے بھی شرکت کی۔ جے پی سی 129ویں آئینی ترمیمی بل کی جانچ کر رہی ہے۔ اس بل کا مقصد لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ کرانے کی راہ ہموار کرنا ہے۔

پیر کی میٹنگ میں جے پی سی کے چیئرمین پی پی چودھری کے علاوہ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ کے لکشمن، کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا، کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم، ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ ساگریکا گھوش اور این سی پی (شرد پوار گروپ) کی رکن پارلیمنٹ سپریا سولے سمیت کمیٹی کے دیگر ارکان شامل ہوئے۔

تقریباً سات گھنٹے تک جاری رہنے والی اس میٹنگ میں جے پی سی کے چیئرمین پی پی چودھری نے دعویٰ کیا کہ اب تک کمیٹی نے جن اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی ہے، ان میں تقریباً 99 فیصد افراد ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کرانے کے حق میں ہیں۔

”ایک ملک، ایک انتخاب“ کے لیے تشکیل دی گئی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین پی پی چودھری نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ کمیٹی کو پدم ایوارڈ سے سرفراز شخصیات سے اہم اور مفید تجاویز ملی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف شعبوں سے وابستہ دیگر پدم ایوارڈ یافتگان سے بھی کمیٹی کو ان کے متنوع تجربات کی بنیاد پر اہم معلومات حاصل ہو سکتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پدم ایوارڈ یافتگان کی رائے ہے کہ کمیٹی کو قومی مفاد کو اولین ترجیح دیتے ہوئے کام کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی ”ایک ملک، ایک انتخاب“ کا نظام نافذ کرنے سے پہلے مناسب حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔

چودھری نے کہا کہ پدم ایوارڈ یافتگان کے درمیان ”ایک ملک، ایک انتخاب“ کو لے کر وسیع حمایت موجود ہے اور سبھی چاہتے ہیں کہ قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سمت میں آگے بڑھا جائے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande