
ممبئی ، 24 اگست (ہ س): معروف ماہر لسانیات اور مراٹھی قواعد کی محقق ڈاکٹر یاسمین شیخ کے انتقال سے مراٹھی زبان اور قواعد کے شعبے میں ایک اہم رشتہ ٹوٹ گیا ہے۔ مہاراشٹر نونرمان سینا کے صدر راج ٹھاکرے نے ڈاکٹر یاسمین شیخ کو پُراثر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مراٹھی زبان کے لیے ان کی خدمات اور علمی کام کو سراہا۔
پیدائش کے اعتبار سے یہودی خاندان سے تعلق رکھنے والی جروشہ روبن نے عزیز شیخ سے شادی کے بعد یاسمین شیخ کا نام اختیار کیا۔ یہودی خاندان میں پیدا ہونے اور ایک مسلم شخص کے ساتھ ازدواجی زندگی گزارنے والی یاسمین شیخ نے اپنی پوری زندگی مراٹھی زبان کے مطالعے، قواعد اور معیاری زبان کے تحفظ کے لیے وقف کردی۔ راج ٹھاکرے نے کہا کہ زبان اور مہاراشٹر سے ان کی وابستگی اس بات کی مثال تھی کہ مراٹھی پن صرف پیدائش سے نہیں بلکہ اپنے طرز عمل سے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔
یاسمین شیخ کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے راج ٹھاکرے نے کہا کہ زبان صرف رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ کسی ثقافت کی یادداشت بھی ہوتی ہے۔ ان کی نسل میں درست تحریر، صحیح تلفظ اور قواعد کی پابندی کا ایک خاص نظم موجود تھا۔ آج رابطے کے ذرائع بڑے پیمانے پر بڑھ گئے ہیں اور ہر شخص کے ہاتھ میں لکھنے کا وسیلہ موجود ہے، لیکن زبان کے معاملے میں سختی اور احتیاط کم ہوتی جارہی ہے، جس پر انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔
راج ٹھاکرے نے کہا کہ وقت کے ساتھ زبان میں نئے الفاظ اور نئے رجحانات کا آنا فطری ہے اور یاسمین شیخ بھی اس کی مخالف نہیں تھیں۔ تاہم ان کا اصرار تھا کہ زبان میں تبدیلی سوچ سمجھ کر ہونی چاہیے اور اس کی بنیادی ساخت اور شناخت برقرار رہنی چاہیے۔ ان کا نقطۂ نظر تھا کہ بول چال کی زبان کے ساتھ ساتھ معیاری مراٹھی بھی برقرار رہنی چاہیے اور مراٹھی مادری زبان رکھنے والوں کو اسے اچھی طرح بولنے، پڑھنے اور لکھنے پر عبور حاصل ہونا چاہیے۔
راج ٹھاکرے نے کہا کہ معیاری زبان پر اصرار زبان کی پاکیزگی کے لیے غیر ضروری سختی نہیں بلکہ زبان کی اظہار کی قوت برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔ یاسمین شیخ کے انتقال سے صرف ایک ماہر قواعد ہی نہیں بلکہ اس نسل کی ایک اہم کڑی بھی ٹوٹ گئی ہے جو یہ سمجھتی تھی کہ زبان سے محبت کا مطلب اس کے استعمال میں بھی درستگی اور احتیاط برقرار رکھنا ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے