
نئی دہلی، 24 اگست (ہ س)۔
گوا حکومت نے کہا ہے کہ عصمت دری کے معاملے میں قصوروار قرار دیے گئے تہلکہ کے سابق صحافی ترون تیج پال کو سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے سے پہلے سرینڈر کر دینا چاہیے تھا۔ تیج پال نے اس معاملے میں سنائی گئی 10 سال کی سزا کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ دوسری جانب گوا حکومت نے تیج پال کی سزا بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
گوا حکومت کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے سپریم کورٹ میں یہ بات کہی۔ دوسری جانب ترون تیج پال کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل کپل سبل نے کہا کہ ترون تیج پال کو سرینڈر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ بمبئی ہائی کورٹ کی گوا بنچ نے اپنے 6 اگست کے فیصلے میں سرینڈر کرنے پر ایک ماہ کی روک لگا رکھی ہے۔
گوا حکومت نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ترون تیج پال کو عمر قید کی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ گوا حکومت نے بمبئی ہائی کورٹ کی گوا بنچ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے، جس میں ترون تیج پال کو دو جرائم میں 10-10 سال کی سخت قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔ گوا حکومت نے کہا ہے کہ وقت گزر جانے کا فائدہ مجرم کو نہیں دیا جا سکتا۔
6 اگست کو بمبئی ہائی کورٹ کی گوا بنچ نے ترون تیج پال کو بری کرنے کے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو منسوخ کر دیا تھا، تاہم ہائی کورٹ نے ترون تیج پال کو 10 سال کی سزائے قید بامشقت سنائی ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ واقعہ 13 سال پرانا ہے اور اس دوران ترون تیج پال کی جانب سے کسی مجرمانہ فعل کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ