
سیئول، 24 اگست (ہ س)۔ جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق روس میں شمالی کوریا کے فوجیوں کی فوری طور پر نئی تعیناتی کے کوئی واضح آثار سامنے نہیں آئے ہیں۔ تاہم، شمالی کوریا اضافی فوجیوں کو روس بھیجنے کے لیے ممکنہ طور پر اپنی تیاری جاری رکھے ہوئے ہے۔
جنوبی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی یونہاپ کے مطابق، جنوبی کوریا کی مرکزی اپوزیشن جماعت ’پیپلز پاور پارٹی‘ کے رکن پارلیمنٹ یو یونگ وون نے اتوار کو فوج کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے یہ معلومات فراہم کیں۔ رکن پارلیمنٹ کو پیش کی گئی رپورٹ میں ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی (ڈی آئی اے) نے کہا ہے کہ شمالی کوریا اضافی فوجیوں کی تعیناتی کے لیے تیاری کررہا ہے، تاہم فی الحال اضافی فوجیوں کی فوری تعیناتی سے متعلق کوئی سرگرمی نظر نہیں آئی ہے۔
جنوبی کوریا کی انٹیلی جنس کا یہ جائزہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے گزشتہ ماہ دعویٰ کیا تھا کہ روس، یوکرین کے خلاف جنگ میں مدد کے لیے اپنے جنوب مغربی سرحدی علاقے میں تقریباً 30 ہزار اضافی شمالی کوریائی فوجیوں کو تعینات کرنے کی تیاری کررہا ہے۔
جنوبی کوریا کے فوجی حکام نے تصدیق کی ہے کہ شمالی کوریا اندرونی سطح پر مزید فوجیوں کو روس بھیجنے کے امکانات کے لیے تیاری کررہا ہے۔ تاہم، ابھی تک زمینی سطح پر ایسی کوئی سرگرمی نظر نہیں آئی جس سے فوری طور پر نئی تعیناتی کی تصدیق ہوسکے۔شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی بہن اور بااثر رہنما کم یو جونگ نے گزشتہ ہفتے زیلنسکی کے اضافی فوجیوں کی تعیناتی سے متعلق دعوے کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیا تھا۔شمالی کوریا اور روس کے درمیان فوجی تعاون میں اضافے کے بعد سے ہی پیانگ یانگ کی جانب سے روسی فوج کو فوجی اہلکار اور ہتھیار فراہم کیے جانے پر عالمی سطح پر تشویش برقرار ہے۔
جنوبی کوریا کی دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی کے اندازے کے مطابق، شمالی کوریا نے اکتوبر 2024 سے اب تک روس میں 16 ہزار سے زائد فوجی بھیجے ہیں۔ ان میں سے بڑی تعداد میں فوجیوں کے ہلاک یا زخمی ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ڈی آئی اے کا یہ بھی اندازہ ہے کہ شمالی کوریا نے روس کو 1.5 کروڑ سے زائد توپ کے گولے فراہم کیے ہیں۔جنوبی کوریا کی فوج کی تازہ رپورٹ سے اشارہ ملتا ہے کہ شمالی کوریا روس کے ساتھ فوجی تعاون جاری رکھنے کی تیاری کررہا ہے، تاہم فی الحال روس میں نئی بڑی فوجی تعیناتی کے ٹھوس شواہد سامنے نہیں آئے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan