
ماسکو/استانہ، 24 اگست (ہ س)۔ قازقستان میں نئے آئینی انتظام کے تحت ہونے والے ملک کے پہلے پارلیمانی انتخابات میں صدر قاسم ژومارت توقایف کی حمایت یافتہ عادیلیت پارٹی نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ مرکزی انتخابی کمیشن کے مطابق عادیلیت کو 71.17 فیصد ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔ اس نتیجے سے صدر توقایف کی سیاسی پوزیشن مزید مضبوط ہونے کا امکان ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے عادیلیت کی کامیابی پر قازقستان کے صدر قاسم ژومارت توقایف کو مبارکباد دی ہے۔
ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو اور دیگر میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ انتخابات ملک کی نئی 145 رکنی یک ایوانی پارلیمنٹ ’قوریلتائی‘ کے قیام کے لیے کرائے گئے تھے۔ نئے آئین کے تحت قازقستان کی سابقہ دو ایوانی پارلیمنٹ کو ختم کر کے یک ایوانی قانون ساز نظام نافذ کیا گیا ہے۔
انتخابات میں سات سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا۔ ان میں عادیلیت پارٹی، نیشن وائیڈ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی، بایتاک، پیپلز پارٹی آف قازقستان، اویول، اک ژول اور ریسپبلیکا شامل تھیں۔ ووٹروں کو ان میں سے کسی کو نہیں (نوٹا) کا اختیار بھی دیا گیا تھا۔
نئی پارلیمنٹ کا انتخاب مکمل طور پر پارٹی فہرست نظام کے ذریعے ہوا۔ پارلیمنٹ میں جگہ بنانے کے لیے کسی بھی پارٹی کے لیے کم از کم 5 فیصد ووٹ حاصل کرنا ضروری تھا۔
انتخابی کمیشن کے مطابق عادیلیت کے علاوہ چار دیگر جماعتیں بھی پارلیمنٹ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ ان میں کاروباری طبقے کی حمایت یافتہ ریسپبلیکا اور اک ژول، سینٹر لیفٹ نیشن وائیڈ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی اور دیہی ووٹروں کی نمائندگی کرنے والی اویول پارٹی شامل ہیں۔ ادیلیت پارٹی کا قیام اسی سال عمل میں آیا تھا۔ پارٹی کے قیام کے بعد سابق حکمراں جماعت امانت کو اس میں ضم کر دیا گیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عادیلیت کی زبردست کامیابی اور پارلیمنٹ میں حکومت کی حمایت کرنے والی جماعتوں کی موجودگی سے توقایف انتظامیہ کو اپنے سیاسی اور آئینی اصلاحاتی منصوبوں کو آگے بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔ صدر کے دفتر کے پہلے نائب سربراہ ایرلان کارین نے انتخابات کو قازقستان کے ’قومی ری سیٹ‘ کے نئے مرحلے کی شروعات قرار دیا۔
کارین کے مطابق یہ تاریخی اہمیت کا حامل انتخاب تھا، کیونکہ اس کے ذریعے نئے آئینی نظام کے تحت پہلی قانون ساز اسمبلی تشکیل دی جا رہی ہے۔ انتخابات کے لیے تقریباً 1.26 کروڑ ووٹر رجسٹرڈ تھے۔ ملک بھر میں پولنگ مراکز مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے کھولے گئے اور رات 8 بجے بند ہوئے۔ فوجی اڈوں، شفٹ ورکروں کی بستیوں اور مسلسل چلنے والی فیکٹریوں جیسے کچھ مقامات پر پولنگ مراکز ایک گھنٹہ پہلے کھولے گئے۔
بیرون ملک مقیم قازق شہریوں کے لیے 61 ممالک میں 79 پولنگ مراکز قائم کیے گئے تھے۔ نئی پارلیمنٹ کے قیام کے ساتھ ہی قازقستان اب نئے آئینی نظام کے اگلے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، جس میں صدر توقایف کی قیادت میں سیاسی اور انتظامی جدید کاری کو آگے بڑھانے پر زور دیا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد