
تہران، 24 اگست (ہ س)۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس آراغچی نے کہا ہے کہ ایران اور چین میں ایک زیادہ منصفانہ بین الاقوامی نظام کی تعمیر، کثیرالجہتی کو مستحکم کرنے اور عالمی امن و استحکام کو فروغ دینے کی بڑی صلاحیت ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا۔ایرانی پریس ٹی وی کے مطابق ایک مقامی اخبار میں شائع ہونے والے اپنے مضمون ایران-چین اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے افق پر ایک نئی سوچ میں اراغچی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے امکانات پہلے سے کہیں زیادہ روشن اور متحرک ہیں۔ دونوں ممالک کے رہنماو¿ں کے مضبوط عزم اور باہمی اعتماد کی بنیاد پر خوشحالی اور تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔ایران اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کی 55 ویں سالگرہ کا حوالہ دیتے ہوئے اراغچی نے دونوں ممالک کو مشکل وقت میں دوست قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے تاریخ کے اتار چڑھاو¿ کے ذریعے مضبوط تعلقات برقرار رکھے ہیں اور مشترکات کی بنیاد پر تعاون کرتے ہوئے ایک دوسرے کے اختلافات کا احترام کیا ہے۔اراگچی کے مطابق 55 سال پرانے سفارتی تعلقات اب جامع اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے تحت ایک نئے اور اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ یہ شراکت داری علاقائی اور بین الاقوامی چیلنجوں سے نمٹنے اور باہمی احترام اور اعتماد پر مبنی مستقبل کی تعمیر کے لیے دونوں ممالک کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ حالیہ برسوں میں ایران اور چین کے تعلقات گہرے، ساختی اور وسیع تر ہوئے ہیں۔اراغچی نے چین کو ایران کا پہلا اقتصادی شراکت دار قرار دیا۔ شانگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن (ایس او سی) اور برکس (برازیل، روس، ہندوستان، چین اور جنوبی افریقہ) میں چین کے بااثر کردار اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن کی حیثیت کا بھی ذکر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ چین نے بین الاقوامی پیش رفت میں تعمیری، متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے۔ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے مبینہ اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے اراغچی نے کہا کہ یہ واقعات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی اخلاقی اصولوں کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری پر اس طرح کے حملوں کو روکنے اور ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرانے میں ناکام ہونے کا الزام لگایا۔انہوں نے کہا کہ چین نے دنیا کو کئی مواقع پر جنگل کے قانون یعنی طاقتور ممالک کی من مانی کی واپسی کے خطرے کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ اراگچی کے مطابق حالیہ پیش رفت نے ان خدشات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ایسی صورتحال میں ایران اور چین جیسے ممالک کے لیے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ کے اپنے مشترکہ عزم کو عملی اقدامات میں تبدیل کریں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی