
نئی دہلی، 24 اگست(ہ س)۔ ملک کے معروف صنعتی اور لاجسٹک انفرا ڈویلپر ہورائزن انڈسٹریل پارکس کے حصص نے آج اسٹاک مارکیٹ میں فلیٹ انٹری کرکے اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو مایوس کیا۔ کمپنی کے حصص آئی پی او کے تحت 60 روپے کی قیمت پر جاری کیے گئے تھے۔ آج یہ بی ایس ای پر 0.58 فیصد رعایت پر59.65 روپیہ کی سطح پر اور این ایس ای پر0.42 فیصد پریمیم کے ساتھ60.25 روپیہ کی سطح پر درج ہوا۔
لسٹنگ کے بعد منافع وصولی کے سبب فروخت کی وجہ سے اسٹاک56.60 روپے کی سطح پر گر گیا۔ تاہم، بعد میں خریداروں نے خریدنا شروع کیا اور اسٹاک کو سپورٹ کرنے کی کوشش کی۔ خرید و فروخت کے پورے دن کے بعد، حصص 57.95روپے کی سطح پر بند ہوئے۔ اس طرح، تجارت کے پہلے دن کے بعد، کمپنی کے آئی پی او سرمایہ کاروں کو فی حصص2.05 روپے یعنی3.42 فیصد کا نقصان ہوا۔
کمپنی کا 2,600.04 کروڑ روپے کا آئی پی او 17 اور 19 اگست کے درمیان سبسکرپشن کے لیے کھلا تھا۔ آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی طرف سے ہلکا سا ردعمل ملا، جس کے نتیجے میں اسے مجموعی طور پر 1.52 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ ان میںاہل ادارہ جاتی خریداروں (کیو آئی بی) کے لیے مخصوص حصے کے 1.94 گنا سبسکرائب کیا گیا تھا۔ اسی طرح، غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی) کے لیے مخصوص حصے کو 1.03 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ نیز، خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے مخصوص حصے کو 1.02 گنا سبسکرائب کیا گیا تھا اور ملازمین کے لیے مخصوص حصے کو 1.64 گنا سبسکرائب کیا گیا تھا۔
اس آئی پی او کے تحت 10 روپے کی فیس ویلیو والے کل 43,34,09,090 حصص جاری کیے گئے ہیں۔ کمپنی آئی پی او میں حصص کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو قرض چکانے اور کچھ مکمل ملکیتی ماتحت اداروں کی مالی اعانت، ورکنگ کیپٹل کی ضروریات اور عام کارپوریٹ مقاصد کو پورا کرنے کے لیے استعمال کرے گی۔
جہاں تک ہورائزن انڈسٹریل پارکس کی مالی صحت کا تعلق ہے، جیسا کہ پراسپیکٹس میں دعوی کیا گیا ہے، اس کی مالی صحت مسلسل کمزور ہوئی ہے۔ کمپنی کو مالی سال2023تا2024 میں 162.21 کروڑ روپے کا خالص نقصان ہوا، جو اگلے مالی سال 2024تا2025میں بڑھ کر 178.78 کروڑ روپے ہو گیا۔ گزشتہ مالی سال 2025تا2026میں کمپنی کا نقصان بڑھ کر 203.65 کروڑ روپے ہو گیا۔
اس عرصے کے دوران کمپنی کی آمدنی میں مسلسل اضافہ ہوا۔ اس نے مالی سال 2023تا2024میں 245.52 کروڑ روپے کی کل آمدنی حاصل کی، جو مالی سال 2024تا2025میں بڑھ کر 439.35 کروڑ روپے ہو گئی۔ پچھلے مالی سال 2025تا2026 میں کمپنی نے 767.84 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کی۔
اس دوران کمپنی کا قرض بھی مسلسل بڑھتا گیا۔ مالی سال 2023تا2024کے اختتام پر کمپنی پر 3,688.21 کروڑ روپے کا قرض تھا، جو مالی سال 2024تا2025میں بڑھ کر 7,009.11 کروڑ روپے ہو گیا۔ گزشتہ مالی سال 2025تا2026کی بات کریں تو اس دوران کمپنی کا قرض کا بوجھ کم ہو کر 6,884.34 کروڑ روپے رہ گیا۔
اس مدت کے دوران کمپنی کا ای بی آئی ٹی ڈی اے2023تا2024 میں 151.51 کروڑ روپے رہی، جو 2024تا2025میں بڑھ کر 339.12 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی طرح پچھلے مالی سال2025تا2026 میں یہ 607.80 کروڑ روپے تھی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی