
نئی دہلی، 24 اگست (ہ س)۔
کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے پیر کو اعلان کیا ہے کہ وہ 5 ستمبر کو انڈیا گیٹ سے دہلی پولیس ہیڈکوارٹر تک پرامن مارچ نکالے گی۔ طلبہ تحریک کے دوران ”پارلیمنٹ چلو“ مارچ کے بعد یہ ان کا دوسرا پرامن مارچ ہوگا۔
سی جے پی کے اعلامیے کے مطابق اس مارچ کی قیادت نیٹ امتحان میں جان گنوانے والے طلبہ اور پولیس کی مبینہ بربریت کا شکار ہونے والے افراد کے اہل خانہ کریں گے۔ یہ احتجاج حکومت کی جانب سے 25 جولائی کو کیے گئے وعدوں کو پورا نہ کرنے کے خلاف کیا جائے گا۔ سی جے پی کی ”قومی ورکنگ کمیٹی“ نے آج ایک میٹنگ کی۔
اس میں مرکزی حکومت اور بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں کی جانب سے ملک کے نوجوانوں سے 25 جولائی کو کیے گئے پکے وعدوں کی تکمیل کا جائزہ لیا گیا۔ انہی وعدوں کی بنیاد پر نوجوانوں نے ملک گیر احتجاج کو نیک نیتی کے ساتھ واپس لیا تھا۔
کمیٹی کے ارکان نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ آیا حکومت واقعی اپنے وعدے کا احترام کرنے کا ارادہ رکھتی بھی ہے یا نہیں۔ 18 اگست کو سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے ملک بھر میں درج ایف آئی آرز کی فہرست بار بار طلب کی تھی، تاکہ عدالت ان سب کو ایک ساتھ منسوخ کرنے پر غور کر سکے اور وعدہ پورا کرنا آسان ہو جائے۔ اس کے باوجود حکومت نے ایسا کرنے کی واضح یقین دہانی کرانے سے انکار کر دیا۔ سی جے پی کو حکومت کی جانب سے تحریری یقین دہانی بھی ابھی تک نہیں ملی ہے۔
سی جے پی کے مطابق، 25 جولائی کو ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں عوامی طور پر وعدے کیے گئے تھے۔ نوجوانوں نے ان وعدوں پر بھروسہ کیا تھا اور نیک نیتی کے ساتھ ملک گیر تحریک واپس لے لی تھی۔ کوئی بھی حکومت پوری نسل کے اعتماد کا استعمال کرکے انہیں گھر واپس جانے پر مجبور نہیں کر سکتی اور پھر خاموشی سے اپنے ہی وعدے سے پیچھے نہیں ہٹ سکتی۔ وہ دھوکے کی اس کوشش کو قبول نہیں کریں گے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ