موبائل کی چمک میں کہیں بچپن تو نہیں کھو رہا؟ سپریم کورٹ میں کھیل کے حق پر سماعت نے کھڑا کیا بڑا سوال
موبائل کی چمک میں کہیں بچپن تو نہیں کھو رہا؟ سپریم کورٹ میں کھیل کے حق پر سماعت نے کھڑا کیا بڑا سوال نئی دہلی، 20 اگست (ہ س)۔ اسمارٹ فون، ٹیبلٹ، آن لائن کلاسز، ویڈیو گیمز اور چند سیکنڈز میں بدل جانے والی چھوٹی ویڈیوز (ریلز) کے دور میں بچوں کے سام
سپریم کورٹ میں ’کھیل کے حق‘ پر سماعت نے کھڑا کیا بڑا سوال


موبائل کی چمک میں کہیں بچپن تو نہیں کھو رہا؟ سپریم کورٹ میں کھیل کے حق پر سماعت نے کھڑا کیا بڑا سوال

نئی دہلی، 20 اگست (ہ س)۔ اسمارٹ فون، ٹیبلٹ، آن لائن کلاسز، ویڈیو گیمز اور چند سیکنڈز میں بدل جانے والی چھوٹی ویڈیوز (ریلز) کے دور میں بچوں کے سامنے اب میدان کا سب سے بڑا مقابلہ کسی دوسری ٹیم سے نہیں بلکہ اسکرین سے ہے۔ سوال صرف اتنا نہیں رہ گیا ہے کہ بچوں کو کھیلنا چاہیے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا کھیل اور جسمانی سرگرمی کو بھی بچے کی تعلیم اور نشوونما کا اتنا ہی لازمی حصہ مانا جانا چاہیے جتنی کہ کتابیں اور کلاس رومز۔ اسی سوال نے اب سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔

’کنشک پانڈے بنام یونین آف انڈیا و دیگر‘ کے معاملے میں دائر مفادِ عامہ کی عرضی میں کھیل اور جسمانی خواندگی کو آئین کی دفعہ 21 اے کے تحت بنیادی حق کے طور پر تسلیم کرنے اور اسکولوں کے نصاب میں لازمی اسپورٹس ایجوکیشن نیز جسمانی سرگرمیوں کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ معاملہ اس لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ محض آئین میں ایک نئے حق کو شامل کرنے کی قانونی بحث نہیں ہے، بلکہ آج کے بچپن کی بدلتی ہوئی تصویر سے جڑا حساس سوال ہے۔

سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران کہا کہ ڈیجیٹل دور میں بچوں کا کھیل کے میدانوں سے دور ہونا ’’بالکل ناگزیر اور انتہائی ضروری‘‘ مسئلہ ہے۔ بات صرف موبائل فون کو قصوروار ٹھہرانے کی بھی نہیں ہے۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اب تعلیم، باہمی رابطے، تخلیقی صلاحیتوں اور معلومات کا اہم ذریعہ بن چکی ہے۔ اصل تشویش تب پیدا ہوتی ہے جب اسکرین پر گزارا جانے والا وقت دوڑنے، کھیلنے، تیراکی کرنے، سائیکل چلانے اور دوستوں کے ساتھ میدان میں وقت گزارنے کی جگہ لینے لگے۔ آخر ایسا بچپن کیسا ہوگا جس میں بچے کھیل کے میدان سے زیادہ وقت اسکرین کے سامنے گزاریں؟

کھیل کی اہمیت صرف جسم کو تندرست رکھنے تک ہی محدود نہیں ہے۔ میدان میں بچہ صرف جیتنا ہی نہیں بلکہ ہارنا بھی سیکھتا ہے۔ ضوابط کا احترام، نظم و ضبط، جذبۂ باہمی (ٹیم اسپرٹ)، قیادت، صبر اور ناکامی کے بعد دوبارہ کھڑے ہونے کا ہنر بھی سیکھتا ہے۔ اسی بنیاد پر عرضی گزار کا موقف ہے کہ کھیل کو صرف تمغے جیتنے یا بین الاقوامی سطح کے کھلاڑی تیار کرنے کے زاویے سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ کھیل ذہنی اور سماجی صحت، شخصیت کی تعمیر، خود اعتمادی، سماجی میل جول اور اجتماعی شعور کو بھی مضبوط کرتا ہے۔ یعنی کھیل تعلیم، صحتِ عامہ، نوجوانوں کی ترقی اور سماجی تعمیر کا موثر ذریعہ بھی ہے۔

ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر تعلیم کا اصل مقصد بچے کو عملی زندگی کے لیے تیار کرنا ہے، تو کیا جسمانی خواندگی کو نصابی و علمی خواندگی سے کم تر سمجھا جا سکتا ہے؟ اس معاملے میں ایک تجویز خاص طور پر توجہ طلب ہے۔ ایمیکس کیوری کی سفارشات میں سی بی ایس ای اور آئی سی ایس ای جیسے اسکول بورڈز کے لیے اسکول کے اوقات میں سے 90 منٹ کا وقت جسمانی سرگرمیوں کے لیے مختص کرنے کی بات سامنے آئی ہے۔ یہ خیال اس لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ متعدد اسکولوں میں کھیل کے پیریڈ کو آج بھی پڑھائی کے مقابلے کم اہم سمجھا جاتا ہے اور امتحانات قریب آتے ہی اسے آسانی سے ختم کر دیا جاتا ہے۔

اگر کھیل کو تعلیم کا لازمی حصہ تسلیم کر لیا جاتا ہے تو اسکولوں کو کھیل کے میدان، تربیت یافتہ فزیکل ایجوکیشن اساتذہ، بنیادی سہولیات اور معذور بچوں کے لیے کھیل کے آسان مواقع پر بھی سنجیدگی سے توجہ دینی ہوگی۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ کھیل کا حق ہر بچے کے لیے ہوگا، صرف ان بچوں کے لیے نہیں جن میں کھلاڑی بننے کی غیر معمولی صلاحیت نظر آتی ہو۔

اگرچہ سپریم کورٹ نے فی الوقت کھیل کو بنیادی حق قرار نہیں دیا ہے۔ معاملہ زیرِ سماعت ہے اور اگلی سماعت 22 ستمبر کو ہونی ہے۔ اس سماعت نے عدالت سے باہر ایک ایسا سوال ضرور کھڑا کر دیا ہے جس کا جواب والدین، اسکول اور سماج سبھی کو دینا ہوگا—ہم اپنے بچوں کو ڈیجیٹل مستقبل کے لیے تیار کرتے کرتے کہیں انہیں حقیقی دنیا کے لیے تو فراموش نہیں کر رہے؟ ہر بچہ چیمپئن بننا نہیں چاہتا اور نہ ہی ہر بچے کے لیے پیشہ ور کھلاڑی بننا ضروری ہے۔ لیکن ہر بچے کو کھیلنے، دوڑنے، گرنے، سنبھلنے اور میدان میں کچھ وقت گزارنے کا موقع ضرور ملنا چاہیے۔ شاید کھیل کو بنیادی حق بنانے سے متعلق عدالتی فیصلے میں کچھ وقت لگے، لیکن یہ طے کرنا ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے کہ ہمارے بچوں کے بچپن میں اسکرین حاوی ہوگی یا کھیل کا میدان۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande