
نئی دہلی، 20 اگست (ہ س)۔
کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے 82ویں یومِ پیدائش کے موقع پر نوجوانوں، تعلیمی نظام اور جمہوری حقوق کے حوالے سے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک میں نظریاتی لڑائی اس بات پر ہے کہ ایک گروہ نے یہ طے کر لیا ہے کہ صرف وہی پورے ملک کے لیے سچ جانتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طلباءپر ہر روز حملے ہو رہے ہیں۔
راجیو گاندھی کے 82ویں یومِ پیدائش کے موقع پر نئی دہلی کے جواہر بھون میں منعقدہ ’ہرا بھرا سوراج: اے ٹریبیوٹ ٹو راجیو گاندھیز وژن‘ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ اگر کوئی طالب علم ان کے پاس آتا ہے تو وہ یہ مانتے ہیں کہ طالب علم اپنی سچائی کو خود زیادہ بہتر جانتا ہے۔ ان کا کام اسے سننا، اس کا احترام کرنا اور اسے سمجھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی اصل سیاسی لڑائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’سوراج‘ کو اکثر ’فریڈم‘ یعنی آزادی سمجھ لیا جاتا ہے، جبکہ سوراج کا مطلب ہے ’اپنے اوپر اپنی حکمرانی‘۔ یہ ایک ذمہ داری اور سوچنے کا طریقہ ہے۔ مہاتما گاندھی چاہتے تھے کہ ہر شخص اس راستے پر چلے۔ حکومت اور ملک کی ذمہ داری ہے کہ نوجوانوں کے تصورات اور تخیلات کے دروازے کھولے اور انہیں اس راستے پر آگے بڑھنے میں مدد دے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ گاندھی جی کا وژن اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک تعلیمی نظام مہنگا رہے، امتحانات کا نظام غیر منصفانہ ہو، مالیاتی نظام چند لوگوں کے ہاتھوں میں محدود رہے اور سیاسی نظام ملک کے ہر حصے تک نہ پہنچے۔ خراب ماحول انسان کو سوراج سے دور کر دیتا ہے اور اس کی فطری حالت کو تبدیل کر دیتا ہے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ ملک میں تبدیلی کی ضرورت ہے تاکہ ہر شخص، خواہ اس کا مذہب، ذات، عمر یا جنس کچھ بھی ہو، یہ محسوس کر سکے کہ وہ اسی ملک کا حصہ ہے، اسے یہاں محبت اور احترام حاصل ہے اور سچ کی تلاش میں اس کی کوشش اہمیت رکھتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ