مرزا فخرالاسلام عالمگیربنگلہ دیش کے نئے صدر منتخب ، جمعہ کو حلف برداری
ڈھاکہ، 20 اگست (ہ س):۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے امیدوار مرزا فخرالاسلام عالمگیر جمعرات کو بنگلہ دیش کے 23ویں صدر منتخب ہوگئے۔ انہوں نے صدارتی انتخاب میں اپنے واحد حریف جماعتِ اسلامی کی قیادت والے 11 جماعتی اتحاد کے امیدوار کرنل (ر)
مرزا فخرالاسلام عالمگیربنگلہ دیش کے نئے صدر منتخب ، جمعہ کو حلف برداری


ڈھاکہ، 20 اگست (ہ س):۔

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے امیدوار مرزا فخرالاسلام عالمگیر جمعرات کو بنگلہ دیش کے 23ویں صدر منتخب ہوگئے۔ انہوں نے صدارتی انتخاب میں اپنے واحد حریف جماعتِ اسلامی کی قیادت والے 11 جماعتی اتحاد کے امیدوار کرنل (ر) اولی احمد کو بھاری فرق سے شکست دی۔ مرزا فخرالاسلام عالمگیر کو 255 ووٹ جبکہ اولی احمد کو 88 ووٹ ملے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی بی ایس ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، چیف الیکشن کمشنر اور ریٹرننگ افسر اے ایم ایم ناصر الدین نے پارلیمنٹ کے چیمبر میں ووٹنگ کے بعد انتخابی نتائج کا اعلان کیا۔ مجموعی طور پر 349 رجسٹرڈ ووٹروں کے لیے 349 بیلٹ پیپرز چھاپے گئے، جن میں سے 343 بیلٹ پیپر استعمال ہوئے۔ 349 ووٹروں میں سے چھ ارکان پارلیمنٹ نے صدارتی انتخاب میں ووٹ نہیں ڈالا۔ مرزا فخرالاسلام عالمگیر کو 255 اور اولی احمد کو 88 ووٹ حاصل ہوئے۔

اس سے قبل دوپہر 2 بجے سے شام 5 بجے تک ووٹنگ ہوئی، جس میں ارکان پارلیمنٹ نے ملک کے 23ویں صدر کے انتخاب کے لیے اوپن بیلٹ کے ذریعے ووٹ ڈالے۔ ووٹنگ کے آغاز میں قائم مقام صدر حفیظ الدین احمد اور قائم مقام اسپیکر بیرسٹر قیصر کمال نے دوپہر 2 بج کر 10 منٹ پر ووٹ ڈالا، جبکہ وزیر اعظم طارق رحمان اور مرزا فخرالاسلام عالمگیر نے 2 بج کر 11 منٹ پر ووٹ دیا۔

ووٹنگ سے قبل چیف الیکشن کمشنر ناصر الدین نے صدارتی عہدے کے لیے دونوں امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا اور ارکان پارلیمنٹ کو ووٹنگ کے طریقہ کار سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بیلٹ پیپر کو بیلٹ باکس میں کس طرح ڈالنا ہے۔ بنگلہ دیش کی 350 رکنی پارلیمنٹ میں ایک نشست خالی ہونے کی وجہ سے ارکان کی تعداد 349 تھی۔

انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد بی این پی نے بتایا کہ مرزا فخرالاسلام عالمگیر 21 اگست، جمعہ کی شام بنگ بھون میں صدر کے عہدے کا حلف لیں گے۔

صدارتی عہدے کے لیے آخری بار مقابلہ 8 اکتوبر 1991 کو ہوا تھا، جب بی این پی کے امیدوار عبدالرحمن بسواس نے عوامی لیگ کے امیدوار بدرالحیدر چودھری کو شکست دے کر ملک کے 11ویں صدر کا عہدہ سنبھالا تھا۔ عبدالرحمن بسواس کو 172 جبکہ بدرالحیدر چودھری کو 92 ووٹ ملے تھے۔ اس کے بعد صدارتی انتخابات میں ووٹنگ کی ضرورت نہیں پڑی، کیونکہ ہر بار ایک ہی امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوتا رہا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande