
تل ابیب ،20اگست (ہ س )۔
اسرائیلی فوج نے پہلی بار اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس نے 2024 میں غزہ میں فلسطینی بچی ہند رجب کو لے جانے والی گاڑی پر فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں پانچ سالہ ہند سمیت اس کے چھ رشتہ دار ہلاک ہو گئے تھے۔
واضح رہے کہ ہند رجب کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنی چچی، چچا اور تین کزنز کے ساتھ جان بچانے کے لیے ایک کار میں شہر سے فرار ہو رہی تھیں۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق حملے کے بعد ہند رجب ابتدائی طور پر زندہ بچ گئی تھی اور انھوں نے ایک فون کال کا جواب دیا تھا جس میں وہ مدد کی اپیل کرتی رہیں۔ یہ کال کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔
بعد ازاں ہند تک پہنچنے کے لیے بھیجی گئی ایک ایمبولینس، جس کی نقل و حرکت اسرائیلی فوج کے ساتھ رابطے میں طے کی گئی تھی، اسے بھی گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا جس سے دو طبی اہلکار ہلاک ہو گئے۔ چند روز بعد ہند کی لاش دیگر ہلاک ہونے والوں کے ساتھ برآمد ہوئی تھی۔
بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ہند، اس کے اہلِ خانہ اور طبی اہلکاروں کی ہلاکتوں کے علاوہ مارچ 2025 میں 15 فلسطینیوں، جن میں طبی کارکن اور اقوامِ متحدہ کا ایک اہلکار بھی شامل تھا، کی ہلاکت کے واقعے کی بھی فوجداری تحقیقات شروع کرے گی۔
ہند کی ہلاکت کے معاملے پر آئی ڈی ایف نے کہا: ’فلسطینی ہلالِ احمر کی ایمبولینس کی نقل و حرکت سے متعلق رابطہ کاری میں ممکنہ ناکامیوں کے پیشِ نظر فوجی پولیس کے فوجداری تحقیقاتی شعبے کے ذریعے فوجداری تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
فوج نے مزید کہا کہ اس کی تحقیقات کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’آئی ڈی ایف کے اہلکاروں نے ایک ایسی گاڑی پر فائرنگ کی‘ جو ’اس پیشگی اطلاع کے برعکس سفر کر رہی تھی جو آئی ڈی ایف کے ترجمان کی جانب سے علاقے کے رہائشیوں کے لیے جاری کیے گئے اعلان میں دی گئی تھی ۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ