آبنائے ہرمز میں ایران کا دباؤ برقرار، زیادہ تر بحری جہاز تہران سے خوفزدہ
تہران ،20 اگست (ہ س )۔ آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے باوجود بحری جہازوں کی نقل و حرکت کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیشتر جہاز امریکی دباؤ کے مقابلے میں ایران کو ناراض کرنے سے زیادہ گریز کر رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹوں کے م
آبنائے ہرمز میں ایران کا دباؤ برقرار، زیادہ تر بحری جہاز امریکی دباؤ سے زیادہ تہران سے خوفزدہ


تہران ،20 اگست (ہ س )۔

آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے باوجود بحری جہازوں کی نقل و حرکت کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیشتر جہاز امریکی دباؤ کے مقابلے میں ایران کو ناراض کرنے سے زیادہ گریز کر رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ امریکی فوج آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت پر کنٹرول رکھتی ہے جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی جہاز آبنائے ہرمز سے گزر نہیں سکتا۔ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں سے منسلک جہازوں کے خلاف بحری ناکہ بندی بھی قائم کر رکھی ہے۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جنگ سے پہلے جہاز آبنائے ہرمز کے مرکزی اور طے شدہ بحری راستوں سے گزرتے تھے تاہم موجودہ کشیدگی کے بعد یہاں 2 نمایاں راستے بن گئے ہیں۔ ایرانی راستہ ایران کے ساحل، لارک اور قشم جزائر کے قریب سے گزرتا ہے جبکہ عمانی راستہ عمان کے قریب اور ایرانی ساحل سے نسبتاً دور ہے، امریکہ تجارتی جہازوں کو عمانی راستہ اختیار کرنے پر زور دے رہا ہے۔

سمندری نگرانی کے ادارے کیپلر کے مطابق یکم اگست سے 19 اگست تک تیل، مائع پیٹرولیم گیس اور مائع قدرتی گیس لے جانے والے 112 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے۔ان میں سے 21 جہازوں نے کھلے عام ایرانی راستہ اختیار کیا جبکہ صرف 2 نے عمانی راستہ استعمال کیا، باقی 89 جہازوں نے اپنے راستے خفیہ رکھے یا ایسے راستوں سے گزرے جن کی واضح شناخت نہیں ہو سکی۔ رپورٹ کے مطابق تمام اقسام کے مال بردار جہازوں کو شامل کیا جائے تو اسی عرصے میں مجموعی طور پر 236 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، ان میں سے 83 نے ایرانی راستہ، صرف 3 نے عمانی راستہ اور 2 نے جنگ سے پہلے استعمال ہونے والا مرکزی راستہ اختیار کیا جبکہ 148 جہازوں نے اپنے راستے چھپا لیے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande