
گواہاٹی، 20 اگست (ہ س)۔ آسام میں سیلاب کی تباہ کاری کے بعد حالات بتدریج معمول پر آنے لگے ہیں۔ سیلاب متاثرہ افراد گھروں میں جمع مٹی اور گاد صاف کرنے، تباہ شدہ مکانات کی مرمت اور برباد کھیتوں کو دوبارہ قابل کاشت بنانے میں مصروف ہیں۔
آسام کی تمام ندیاں خطرے کے نشان سے نیچے بہہ رہی ہیں اور پانی کی سطح تیزی سے کم ہورہی ہے۔ آسام ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے 19 اگست کے اعداد و شمار کے مطابق سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 106 ہوگئی ہے۔ اس وقت شیوساگر، نگاوں، گولگھاٹ اور جورہاٹ اضلاع کے 13 ریونیو سرکلوں کے 90 گاوں سیلاب سے متاثر ہیں، جہاں 16,922 افراد متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ 3,057 ہیکٹر زرعی اراضی اب بھی پانی میں ڈوبی ہوئی ہے۔
ریاست میں اب صرف 7 سرکاری راحت کیمپوں میں 262 افراد مقیم ہیں، جبکہ سیلاب سے متاثرہ جانوروں کی تعداد 14,645 ہوگئی ہے۔ پولیس اور انتظامیہ کی ٹیمیں راحت اور بچاو کے کاموں میں مصروف ہیں۔ ریاستی حکومت نے متاثرہ علاقوں میں 17 میڈیکل ٹیمیں بھی بھیجی ہیں، جبکہ نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے سروے جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ہمنت بسوا سرما نے کہا ہے کہ سروے مکمل ہونے کے بعد ہر طرح کے نقصانات کی تلافی کا انتظام کیا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن