
نئی دہلی، 19 اگست (ہ س)۔ اتر پردیش اور جاپان کے درمیان سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی، اختراع، مینوفیکچرنگ، ہنرمندی کی ترقی اور صنعتی تعاون کو نئی رفتار دینے کے مقصد سے بدھ کے روز نئی دہلی میں یوپی-جاپان انویسٹمنٹ میٹ2026 کا انعقاد کیا گیا۔ اجلاس میں اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ساتھ مرکزی وزرا شیوراج سنگھ چوہان اور اشونی ویشنو بھی شریک ہوئے۔ اس موقع پر اتر پردیش کو جاپانی صنعتوں کے لیے طویل مدتی سرمایہ کاری اور صنعتی شراکت داری کا اہم مرکز بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
اجلاس کے دوران ایسکارٹس کُبوٹا لمیٹڈ اور اسپارک منڈا کارپوریشن لمیٹڈ کے منصوبوں کی ورچوئل گراؤنڈ بریکنگ بھی کی گئی۔ ایسکارٹس کُبوٹا کی جانب سے ٹریکٹر اور تعمیراتی آلات کی تیاری کے لیے یمنا ایکسپریس وے اتھارٹی کے سیکٹر-10 میں منصوبہ قائم کیا جا رہا ہے، جس سے تقریباً 3,800 روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
اسی طرح اسپارک منڈا کارپوریشن یمنا ایکسپریس وے اتھارٹی کے علاقے میں دو بڑے مینوفیکچرنگ منصوبے قائم کرے گی، جن میں مجموعی طور پر 10,166 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ ان منصوبوں سے تقریباً 6,440 روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ اتر پردیش نہ صرف بھارت کا گروتھ انجن بن رہا ہے بلکہ دنیا بھر کی سرمایہ کاری کے لیے بھی ایک اہم منزل کے طور پر ابھر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور جاپان دو قدیم اور عظیم ممالک ہیں اور دونوں ملکوں کے تعلقات محض دو حکومتوں کے درمیان نہیں بلکہ دو تہذیبوں اور ثقافتوں کے درمیان مضبوط رشتے کی عکاسی کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت اور جاپان مسابقت کے بجائے تعاون، اشتراک اور رابطے پر یقین رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک کی شراکت داری صرف سرمایہ کاری تک محدود نہیں بلکہ ترقی، سفارت کاری اور باہمی احترام پر بھی مبنی ہے۔ اتر پردیش جاپانی صنعتوں کو محض سرمایہ کار نہیں بلکہ ترقیاتی شراکت دار تصور کرے گا۔
مرکزی وزیر ریل، اطلاعات و نشریات اور الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی اشونی ویشنو نے کہا کہ یوپی-جاپان انویسٹمنٹ میٹ بھارت-جاپان اور اتر پردیش-یاماناشی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی معاشی ترقی کو دنیا نے تسلیم کیا ہے اور ملک 6 سے 8 فیصد کی مسلسل اقتصادی ترقی، قابو میں مہنگائی اور مضبوط مالیاتی بنیاد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق ملک کی ترقی کے اہم ستونوں میں سماجی، ڈیجیٹل اور فزیکل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری، جامع ترقی، مینوفیکچرنگ، اختراع اور قوانین و ضوابط کو آسان بنانا شامل ہیں۔
ویشنو نے کہا کہ بھارت میں ہر سال تقریباً 130 ارب امریکی ڈالر کی مسلسل سرکاری سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، جس سے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ معاشی سرگرمیوں اور روزگار کے نئے مواقع کو بھی فروغ مل رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ اتر پردیش اور جاپان کے یاماناشی پریفیکچر کے درمیان شراکت داری اعتماد، ٹیکنالوجی، ثقافت، سرمایہ کاری اور مشترکہ وژن کی مضبوط بنیاد پر قائم ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت اور جاپان کے تعلقات ثقافتی اور روحانی اقدار سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری مشترکہ ترقی، مشترکہ ٹیکنالوجی اور مشترکہ خوشحالی کی بنیاد پر آگے بڑھ رہی ہے۔یوگی نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ نو برسوں میں اتر پردیش نے امن و امان، استحکام اور تیز رفتار ترقی کے ساتھ ریاستی بجٹ، مجموعی ریاستی پیداواراور فی کس آمدنی میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کے ہدف کی سمت مضبوطی سے آگے بڑھ رہی ہے۔اسپارک منڈا کارپوریشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر آکاش منڈا نے کہا کہ اتر پردیش میں ایکسپریس ویز، فریٹ اور صنعتی کوریڈورز، جدید لاجسٹکس انفراسٹرکچر، صنعتی پارکس، ہنرمند افرادی قوت، اسمارٹ ٹاؤن شپ اور نوئیڈا انٹرنیشنل ایئرپورٹ جیسی سہولتیں صنعتی ترقی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ منڈا گروپ اتر پردیش میں 40 برس سے زائد عرصے سے کام کر رہا ہے اور اس وقت ریاست میں 9 ہزار سے زیادہ افراد کو روزگار فراہم کر رہا ہے۔ گروپ جدید ٹیکنالوجی، موٹر پارٹس، الیکٹرک وہیکل مصنوعات، الیکٹرانکس اور ڈیزائن و ڈیولپمنٹ سینٹرز کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے پر کام کر رہا ہے۔
اجلاس میں یاماناشی پریفیکچر کے گورنر کوٹارو ناگاساکی، اتر پردیش کے صنعتی ترقی کے وزیر نند گوپال گپتا ’نندی‘، شہری ترقی کے وزیر اے کے شرما، الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر سنیل کمار شرما، صنعتی ترقی کے وزیر مملکت جسونت سنگھ سینی سمیت دیگر اہم شخصیات موجود تھیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan