امیٹھی پہنچی محکمہ آثارِ قدیمہ کی ٹیم، 29 تانبے کے گولوں کو بتایا 80 سال پرانا توپ کا گولہ
امیٹھی، 19 اگست (ہ س): اتر پردیش کے امیٹھی ضلع کے مسافر خانہ تحصیل علاقے کے بھنولی گاؤں میں بیت الخلا کی تعمیر کے لیے کی جانے والی کھدائی کے دوران ملنے والے بھاری دھات کے 29 گول نما باقیات کی جانچ کے لیے بدھ کو محکمہ آثارِ قدیمہ و ثقافت کی ٹیم موقع
امیٹھی پہنچی محکمہ آثارِ قدیمہ کی ٹیم، 29 تانبے کے گولوں کو بتایا 80 سال پرانا توپ کا گولہ


امیٹھی، 19 اگست (ہ س): اتر پردیش کے امیٹھی ضلع کے مسافر خانہ تحصیل علاقے کے بھنولی گاؤں میں بیت الخلا کی تعمیر کے لیے کی جانے والی کھدائی کے دوران ملنے والے بھاری دھات کے 29 گول نما باقیات کی جانچ کے لیے بدھ کو محکمہ آثارِ قدیمہ و ثقافت کی ٹیم موقع پر پہنچی۔ معائنے کے بعد ٹیم نے بتایا کہ زمین سے ملنے والے تمام گولے تانبے سے بنے ہوئے ہیں اور تقریباً 80 سال پرانے ہیں۔ آثارِ قدیمہ کے حکام کے مطابق ان کا استعمال پرانے زمانے میں توپوں میں ڈال کر فائر کرنے کے لیے کیا جاتا تھا۔

اتر پردیش ریاستی محکمہ آثارِ قدیمہ و ثقافت، لکھنؤ کے اسسٹنٹ آثارِ قدیمہ افسر ڈاکٹر منوج کمار یادو نے بتایا کہ حکومت کے حکم پر ٹیم معائنے کے لیے پہنچی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ برآمد ہونے والے گولے ہتھیاروں کا حصہ ہیں، جنہیں ناکارہ بنانے کے مقصد سے زمین میں دبایا گیا تھا۔ ایک گولے کا قطر تقریباً 60 سینٹی میٹر، اونچائی تقریباً 20 سینٹی میٹر اور وزن 9 سے 10 کلوگرام ہے۔ کچھ گولوں کے اوپری حصے میں فیوز لگانے کے لیے سوراخ بھی بنے ہوئے ہیں۔ طویل عرصے تک زمین میں دبے رہنے کے باعث گولوں کی بیرونی سطح پر سبز رنگ کی پیٹینا کی تہہ نظر آ رہی ہے۔ ڈاکٹر منوج کمار یادو نے اسے تحقیق کا موضوع قرار دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ اور حکومت کی ہدایات کے بعد آئندہ کی کارروائی طے کی جائے گی۔

بھنولی کے رہنے والے محمد اقبال اپنی اراضی پر پیر کو بیت الخلا کی تعمیر کے لیے کھدائی کرا رہے تھے۔ اسی دوران مزدوروں کو زمین کے اندر دھات کی بھاری گول نما اشیا نظر آئیں۔ مسلسل ایسی اشیا ملنے کے بعد زمین کے مالک نے منگل کی صبح مسافر خانہ کوتوالی کو اطلاع دی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر مجموعی طور پر 29 گولے برآمد کیے اور حفاظتی نقطۂ نظر سے جائے وقوعہ کی نگرانی شروع کردی۔

ایس ڈی ایم مسافر خانہ نیتیش راج نے بتایا کہ تمام 29 گولے پولیس کی نگرانی میں رکھے گئے ہیں اور فی الحال زمین کے مالک کو تعمیراتی کام کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ مزید کھدائی ہوگی یا نہیں، اس کا فیصلہ محکمہ آثارِ قدیمہ اور حکومت کی رپورٹ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande