طلبہ کو احتجاجی مظاہروں سے روکنے والا سرکلر تمل ناڈو حکومت نے واپس لے لیا
طلبہ تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے احتجاج کے بعد کالج ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے حکم واپس لیا چنئی، 19 اگست (ہ س)۔ تمل ناڈو حکومت نے سرکاری آرٹس اینڈ سائنس کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلبہ کو احتجاجی مظاہروں اور تحریکوں میں حصہ لینے سے روکنے کے لیے جاری
طلبہ کو احتجاجی مظاہروں سے روکنے والا سرکلر تمل ناڈو حکومت نے واپس لے لیا


طلبہ تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے احتجاج کے بعد کالج ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے حکم واپس لیا

چنئی، 19 اگست (ہ س)۔

تمل ناڈو حکومت نے سرکاری آرٹس اینڈ سائنس کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلبہ کو احتجاجی مظاہروں اور تحریکوں میں حصہ لینے سے روکنے کے لیے جاری متنازع سرکلر واپس لے لیا ہے۔ طلبہ تنظیموں، سیاسی جماعتوں اور سماجی کارکنوں کی شدید مخالفت کے بعد کالج ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی ڈائریکٹر سندھیہ سیلوی نے بدھ کے روز حکم واپس لینے کا اعلان کیا۔

اس سے قبل کالج ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلبہ کے احتجاج کو روکنے کے لیے پولیس اور کالج انتظامیہ کی جانب سے اٹھائے گئے احتیاطی اقدامات اور مستقبل میں ایسے مظاہروں کو روکنے کے لیے مجوزہ اقدامات پر تفصیلی رپورٹ طلب کی گئی تھی۔ تمام کالجوں کو فوری طور پر رپورٹ تیار کرکے اگلی صبح تک بھیجنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ حکم میں کہا گیا تھا کہ یہ کارروائی چیف سکریٹری کی ہدایت کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔

سرکلر سامنے آنے کے بعد مختلف طلبہ تنظیموں اور سیاسی جماعتوں نے حکومت پر طلبہ کے جمہوری اور احتجاج کے حق کو محدود کرنے کا الزام لگایا۔ بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں سمیت کئی گروپوں نے حکم کی تنقید کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر احتجاج کی وارننگ دی تھی۔

احتجاج میں شدت آنے کے بعد حکومت نے فوری طور پر اپنا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے متعلقہ رپورٹ اور سرکلر واپس لینے کا اعلان کیا۔ کالج ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی ڈائریکٹر سندھیہ سیلوی کی جانب سے جاری نئے سرکلر میں کہا گیا ہے کہ طلبہ کو احتجاجی مظاہروں میں شامل ہونے سے روکنے کے لیے مجوزہ مربوط کارروائی سے متعلق سابقہ حکم فوری طور پر واپس لیا جاتا ہے۔

سرکلر میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس سلسلے میں کالجوں کی جانب سے پہلے سے تیار کی گئی رپورٹ اعلیٰ تعلیم کے محکمہ کو بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ساتھ ہی مستقبل میں طلبہ کے احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے اس طرح کے پابندی والے احکامات جاری نہیں کیے جائیں گے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande