ڈی جے بی کے ایس ٹی پی گھوٹالے میں 16 کروڑ کی منی ٹریل کا دعویٰ
۔ ایس ٹی پی گھوٹالے میں ستیندر جین سمیت 6 افراد کی ایک دن قبل ہوئی تھی گرفتاری نئی دہلی، 19 اگست (ہ س)۔ دہلی جل بورڈ (ڈی جے بی) کے سیویج ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایس ٹی پی) کے ٹینڈر میں مبینہ ہیرا پھیری کی جانچ میں اینٹی کرپشن برانچ (اے سی بی) کو متعدد اہم
عام آدمی پارٹی کی قیادت والی دہلی حکومت کے سابق وزیر ستیندر جین


۔ ایس ٹی پی گھوٹالے میں ستیندر جین سمیت 6 افراد کی ایک دن قبل ہوئی تھی گرفتاری

نئی دہلی، 19 اگست (ہ س)۔ دہلی جل بورڈ (ڈی جے بی) کے سیویج ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایس ٹی پی) کے ٹینڈر میں مبینہ ہیرا پھیری کی جانچ میں اینٹی کرپشن برانچ (اے سی بی) کو متعدد اہم سراغ ملے ہیں۔ تفتیشی ایجنسی کا الزام ہے کہ پانچ ایس ٹی پی کے اپ گریڈیشن والے ٹینڈر میں گنجائش بڑھانے یعنی آگمنٹیشن کی لاگت بھی شامل کر دی گئی، جبکہ وہاں صرف اپ گریڈیشن کیا جانا تھا۔ اس سے ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی کمپنی کو مبینہ طور پر فائدہ پہنچا۔ جانچ میں تقریباً 16 کروڑ روپے کی منی ٹریل ملنے اور ٹینڈر کے عمل سے متعلق چیٹس و دستاویزات برآمد ہونے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔

معاملے میں اے سی بی نے منگل کے روز عام آدمی پارٹی کی قیادت والی دہلی حکومت کے سابق وزیر ستیندر جین اور ڈی جے بی کے سابق سی ای او ادت پرکاش رائے سمیت چھ افراد کو گرفتار کیا۔ دیگر ملزمان میں ڈی جے بی کے سابق کنٹریکٹ مشیر انکت شریواستو، اے این انٹرپرائزز کے پروپرائٹر ناگیندر یادو، یورو ٹیک انوائرنمنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کے مالک راج کمار کرا اور سِرجنہار کے پروپرائٹر پنکج ورما شامل ہیں۔ تفتیشی ایجنسی کے مطابق ان کمپنیوں کا کردار ٹینڈر کی مبینہ ہیرا پھیری میں سامنے آیا ہے۔

اے سی بی ذرائع کے مطابق 2021 سے 2022 کے درمیان چار آپریشنل پیکیجز میں 10 ایس ٹی پی کے اپ گریڈیشن اور آگمنٹیشن کا کام کیا جانا تھا۔ یہ ایس ٹی پی نلوٹھی، نجف گڑھ، نریلا اور کونڈلی میں واقع تھے۔ الزام ہے کہ ٹینڈر کے عمل میں مبینہ ہیرا پھیری کے بعد یورو ٹیک کو ٹھیکہ دیا گیا۔

تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ جن ایس ٹی پی میں صرف اپ گریڈیشن ہونا تھا، ان میں بھی آگمنٹیشن کی لاگت شامل کر دی گئی۔ اپ گریڈیشن میں پلانٹ کے پانی صاف کرنے کے معیار کو بہتر بنایا جاتا ہے، جبکہ آگمنٹیشن میں سیویج کو ٹریٹ کرنے کی گنجائش بڑھائی جاتی ہے۔ اے سی بی کا الزام ہے کہ اس اضافی لاگت سے ٹیکنالوجی مہیا کرانے والی کمپنی کو براہِ راست فائدہ پہنچا۔

ذرائع کے مطابق اے سی بی کو جانچ کے دوران معلوم ہوا کہ اگست 2021 میں ستیندر جین کی ان کے دفتر میں راج کمار کرا کے ساتھ اس منصوبے کے سلسلے میں پہلی میٹنگ ہوئی تھی۔ اس کے بعد مبینہ طور پر کرا کی کمپنی کو ٹینڈر دلانے کا عمل آگے بڑھا۔ اس میں بقیہ چار ملزمان کے کردار کا بھی تفتیش میں سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تفتیشی ایجنسی نے اب تک تقریباً 16 کروڑ روپے کی منی ٹریل ٹریس کر لی ہے، جس میں نقد لین دین کے ساتھ ساتھ بینک ٹرانسفر بھی شامل ہیں۔ الزام ہے کہ ناگیندر یادو اور پنکج ورما کی کمپنیوں کے ذریعے یہ رقم ایسے بچھولیوں (دلالوں) تک پہنچائی گئی، جن کے تعلقات ستیندر جین اور ادت پرکاش رائے سے ہیں۔

اے سی بی نے منگل کے روز دعویٰ کیا کہ ادت پرکاش رائے نے اپنے اور رشتہ داروں کے بینک کھاتوں میں تقریباً 1.52 کروڑ روپے کی رشوت حاصل کی۔ ایجنسی کے مطابق یہ رقم ناگیندر یادو کی کمپنی سے وابستہ بینکنگ چینلز کے ذریعے پہنچی۔ الزام ہے کہ اس رقم کا استعمال غیر منقولہ جائیدادیں خریدنے میں بھی کیا گیا۔

جانچ میں ایس ٹی پی سے خارج ہونے والے پانی کے معیارات سے متعلق سینٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ کے ضوابط میں مبینہ طور پر نرمی برتنے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔ اے سی بی اس پہلو کی تفتیش کر رہی ہے کہ معیارات میں تبدیلی کس عمل کے تحت ہوئی اور اس سے کس کو فائدہ پہنچا۔ اے سی بی نے ملزمان کے موبائل فون اور لیپ ٹاپ سمیت متعدد الیکٹرانک آلات ضبط کر لیے ہیں اور انہیں فارینسک جانچ کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ ان میں 2021 اور 2022 کے چیٹس، ٹینڈر سے متعلق دستاویزات اور ایسی بات چیت ملی ہے، جس میں مبینہ طور پر پابندی والی ٹینڈر کی شرائط شیئر کی گئی تھیں۔ تفتیشی ایجنسی ان ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر ٹینڈر کے عمل کو متاثر کرنے کی کڑیاں جوڑ رہی ہے۔

اس معاملے میں دھوکہ دہی، مجرمانہ خیانت اور مجرمانہ سازش سمیت مختلف دفعات کے تحت 2024 میں کیس درج کیا گیا تھا۔ اس کے بعد اے سی بی نے ٹینڈر کے عمل، رقوم کے لین دین اور ملزمان کے باہمی تعلقات کی تفتیش جاری رکھی۔ جانچ تاحال مکمل نہیں ہوئی ہے اور آنے والے دنوں میں کچھ مزید سرکاری اہلکاروں اور نجی افراد کی گرفتاریاں عمل میں آ سکتی ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande