مندروں کے شہر جموں میں شری رنبیریشور مندر میں عقیدت مندوں کی بھیڑ
جموں، 19 اگست (ہ س)۔ جموں میں اِن دنوں مندروں میں عقیدت مندوں کی بھیڑ ہے ۔شہر کے قدیم ترین اور معروف مندر شری رنبیریشور مندر میں ساون کے مہینے کے اختتام تک عقیدت مندوں کی بھاری تعداد نے بھگوان شیو کے درشن کیے ۔یاترا سیزن کے دوران یاتری بابا برفانی
Ranbesh


جموں، 19 اگست (ہ س)۔ جموں میں اِن دنوں مندروں میں عقیدت مندوں کی بھیڑ ہے ۔شہر کے قدیم ترین اور معروف مندر شری رنبیریشور مندر میں ساون کے مہینے کے اختتام تک عقیدت مندوں کی بھاری تعداد نے بھگوان شیو کے درشن کیے ۔یاترا سیزن کے دوران یاتری بابا برفانی کے درشن کے بعد بوڑھا امرناتھ ،شیو کھوڑی اور اس قدیم مندر میں بھی پوجا کرنے آتے ہیں ۔یہ قدیم مندر مذہبی عقیدت کے ساتھ ساتھ تاریخی اہمیت کے حوالے سے بھی خصوصی مقام رکھتا ہے۔ یہ مندر مہاراجہ رنبیر سنگھ نے تقریباً 1880 میں تعمیر کروایا تھا۔ بھگوان شیو کو وقف اس تاریخی مندر میں ایک ہی پتھر سے تیار کیا گیا عظیم الشان شیو لنگ، 11 نایاب سفٹک شیو لنگ اور بھگوان شیو کی جانب رخ کیے ہوئے وسیع نندی کی مورتی خاص توجہ کا مرکز ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 11 سفٹک شیو لنگ بنارس سے لائے گئے تھے۔

مندر کے احاطے میں مہاکالی، پنچ مکھی ہنومان، شنی دیو، گنیش اور کارتیکیہ سمیت دیگر دیوی دیوتاؤں کے مندر بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ نرمدا ندی کی تہہ سے لائی گئی شالگرام شلاؤں کو بھی مذہبی اعتبار سے اہم سمجھا جاتا ہے۔مندر کی ایک اور خاص بات تقریباً ایک کوئنٹل وزنی دھاتی گھنٹی ہے، جو عقیدت مندوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرتی ہے۔ مندر کے احاطے میں مہاراجہ رنبیر سنگھ کی بھگوان شیو کے سامنے ہاتھ جوڑے ہوئے مورتی بھی موجود ہے۔

مندر کے نیچے واقع کھلے احاطے میں ایک سنت کی سمادھی بھی موجود ہے، جہاں روایت کے مطابق وہ کبھی دھیان کیا کرتے تھے۔ مندر کے عقب میں یشو کرن پارک اور یگیہ شالا بھی قائم ہے۔ مندر میں روزانہ بڑی تعداد میں عقیدت مند پوجا اور درشن کے لیے پہنچتے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

--------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande