این آئی اے کی خصوصی عدالت نے پاکستانی دہشت گرد کمانڈر کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیا
این آئی اے کی خصوصی عدالت نے پاکستانی دہشت گرد کمانڈر کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیا جموں، 19 اگست (ہ س)۔ جموں کی خصوصی این آئی اے عدالت نے جموں و کشمیر میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ملوث پاکستان میں مقیم لشکر طیبہ کے ایک
این آئی اے کی خصوصی عدالت نے پاکستانی دہشت گرد کمانڈر کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیا


این آئی اے کی خصوصی عدالت نے پاکستانی دہشت گرد کمانڈر کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیا

جموں، 19 اگست (ہ س)۔ جموں کی خصوصی این آئی اے عدالت نے جموں و کشمیر میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ملوث پاکستان میں مقیم لشکر طیبہ کے ایک کمانڈر کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیا ہے۔ حکام کے مطابق عدالت نے گزشتہ ماہ مفرور ملزم محمد یعقوب کے خلاف وارنٹ جاری کیا تھا۔ پاکستانی نژاد محمد یعقوب کو مرکزی وزارت داخلہ نے دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔ وہ ابو سمامہ، سمامہ الیاس اور وارث علی کے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے۔

محمد یعقوب اسلام آباد کے چٹھہ بختاور علاقے میں مقیم لشکر طیبہ کا آپریشنل کمانڈر ہے اور کشمیر میں سرگرم تنظیم کے دیگر ارکان کو دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے مالی اور رسد سے متعلق مدد فراہم کرنے اور ان کے ساتھ رابطہ کاری کا الزام ہے۔ این آئی اے عدالت نے 16 جولائی کے حکم میں کہا کہ ملزم غیر حاضر ہے اور تفتیشی ایجنسی عام ذرائع سے اس کی عدالت میں حاضری یقینی بنانے میں ناکام رہی ہے۔ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے عام ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیا اور اس کی تعمیل کے لیے وارنٹ ڈپٹی انسپکٹر جنرل، این آئی اے جموں کو بھیجنے کی ہدایت دی۔

حکام کے مطابق یہ جموں کی خصوصی این آئی اے عدالت کی جانب سے 8 جولائی کے بعد لشکر طیبہ کے کسی اعلیٰ سطحی دہشت گرد کے خلاف جاری کیا گیا دوسرا ناقابل ضمانت وارنٹ ہے۔ اس سے قبل پہلگام دہشت گردانہ حملے کے معاملے میں لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ سعید کے خلاف بھی ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیا گیا تھا۔ این آئی اے کے مطابق محمد یعقوب کے خلاف کارروائی سری نگر میں درج ایک مقدمے کی جاری تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے شواہد کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ یہ معاملہ موٹر سائیکل سوار محمد نقیب بھٹ کی گرفتاری اور اس کے قبضے سے چینی ساختہ دستی بم اور 15 زندہ کارتوس برآمد ہونے کے بعد سامنے آیا تھا۔

تفتیش کے دوران مختلف ریاستوں میں پھیلے ایک بڑے دہشت گرد نیٹ ورک کا پردہ فاش ہوا اور مزید چار دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا، جن میں دو پاکستانی شہری عبداللہ راجپوت عرف کامران احمد اور خبیب عرف عثمان جٹ بھی شامل ہیں۔ این آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ گرفتار دہشت گردوں سے حاصل معلومات اور تفتیش کے دوران سامنے آنے والے مواد سے پاکستان میں مقیم محمد یعقوب کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا۔ ایجنسی کے مطابق یعقوب گرفتار ملزمان کو وادی کشمیر میں سیکورٹی فورسز اور شہریوں پر حملوں سمیت دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے ہدایات فراہم کرتا تھا۔ مرکزی وزارت داخلہ نے 4 جولائی کو محمد یعقوب سمیت 23 افراد کو باقاعدہ طور پر دہشت گرد قرار دیا تھا۔

ہندوستھان سماچار

--------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande