نیو مارکیٹ ہوٹل میں آتشزدگی پر اٹھے سوالات، فائر بریگیڈ نے کئی جانیں بچائیں
کولکاتا، 19 اگست (ہ س)۔ نیو مارکیٹ کے مرزا غالب اسٹریٹ پر واقع ایک ہوٹل میں منگل کی رات کو لگنے والی شدید آگ کے بعد ہوٹل کے فائر سیفٹی سسٹم اور اس کے بندوبست پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اس واقعے میں اب تک نو افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ مہلو
New-market-hotel-fire-question


کولکاتا، 19 اگست (ہ س)۔ نیو مارکیٹ کے مرزا غالب اسٹریٹ پر واقع ایک ہوٹل میں منگل کی رات کو لگنے والی شدید آگ کے بعد ہوٹل کے فائر سیفٹی سسٹم اور اس کے بندوبست پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اس واقعے میں اب تک نو افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ مہلوکین میں چھ مرد، دو خواتین اور ایک بچہ شامل ہے۔

ہوٹل میں قیام پذیرکچھ مہمانوں کا الزام ہے کہ آگ لگنے کے بعد انہیں ہوٹل انتظامیہ سے کوئی مدد نہیں ملی۔ ان کے مطابق ہوٹل میں آگ بجھانے کے مناسب بندوبست بھی نہیں تھے۔ آگ لگتے ہی لوگوں نے باہر نکلنے کی کوشش کی لیکن چاروں طرف دھواں پھیل جانے کے باعث انہیں باہر کیا راستہ تلا ش کرنا انتہائی مشکل ہو گیا۔ ایک رہائشی نے بتایا کہ اگر محکمہ فائر بریگیڈ کا عملہ وقت پر نہ پہنچتا تو شاید وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے۔

مقامی لوگوں کے مطابق، اس علاقے کے بہت سے ہوٹلوں میں عام طور پر دیگر ریاستوں اور بیرون ملک سے علاج کے لیے کولکاتا آنے والے لوگ رہتے ہیں۔ آگ منگل کی رات اس وقت لگی جب ہوٹل کا زیادہ تر عملہ سو رہا تھا۔ بہت سے رہائشی اپنے کمروں میں پھنسے ہوئے تھے۔

بتایا جاتا ہے کہمذکورہ کثیر منزلہ عمارت میں صرف ایک ہی داخلی اور خارجی راستہ ہے جو کہ بہت تنگ ہے۔ رہائشیوں کا الزام ہے کہ ہوٹل میں باہر نکلنے کا کوئی ہنگامی دروازہ نہیں ہے۔ آگ اور دھوئیں سے بچنے کے لیے کچھ لوگ بیت الخلاء میں گھس گئے اور کھڑکیوں کے شیشے توڑ کرباہر نکلنے کی کوشش کی۔ بعد میں، فائر فائٹرز جائے وقوعہ پر پہنچے اور اندر پھنسے افراد کو بحفاظت باہر نکالا۔

عمارت کی اوپری منزل پر ایک خاندان بھی رہتا تھا۔ فائر فائٹرز نے اس خاندان کو بھی بحفاظت باہر نکالا۔ خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے الزام لگایا کہ ہوٹل چلانے والوں کو بار بار فائر سیفٹی کے انتظامات کرنے کے لیے کہا گیا تھا، لیکن انھوں نے قواعد پر عمل نہیں کیا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انتظامیہ کو شکایت کرنے کے باوجود کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی۔

اس واقعے کے بعد اب یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ ہوٹل کو فائر سیفٹی کے معیارات پر عمل کیے بغیر کام کرنے کی اجازت کیسے دی گئی اور حفاظتی شکایات کا فوری ازالہ کیوں نہیں کیا گیا۔ انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کا کردار بھی جانچ پڑتال کی زد میں ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande