کولکاتا ہوٹل آتشزدگی کے بعد ٹریڈ لائسنس اور فائر سیفٹی پر سوالات، ریاستی حکومت  کی جانب سے جانچ کا امکان
کولکاتا، 19 اگست (ہ س): کولکاتا کے نیو مارکیٹ تھانہ علاقے کی مرزا غالب اسٹریٹ میں واقع ایک ہوٹل میں ہونے والی بھیانک آتشزدگی میں نو افراد کی موت کے بعد ہوٹل کو جاری کیے گئے ٹریڈ لائسنس، بجلی کے کنکشن اور فائر سیفٹی انتظامات کو لے کر سوالات اٹھنے لگ
کولکاتا ہوٹل آتشزدگی کے بعد ٹریڈ لائسنس اور فائر سیفٹی پر سوالات، ریاستی حکومت نے تحقیقات کے اشارے دیے  کولکاتا، 19 اگست (ہ س): کولکاتا کے نیو مارکیٹ تھانہ علاقے کی مرزا غالب اسٹریٹ میں واقع ایک ہوٹل میں ہونے والی بھیانک آتشزدگی میں نو افراد کی موت کے بعد ہوٹل کو جاری کیے گئے ٹریڈ لائسنس، بجلی کے کنکشن اور فائر سیفٹی انتظامات کو لے کر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ریاست کی شہری ترقی کی وزیر اگنی مترا پال نے بدھ کو جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور ہوٹل کو مبینہ طور پر ضوابط کی خلاف ورزی کے باوجود اجازت ملنے پر سوال اٹھائے۔  اگنی مترا پال نے کہا کہ پانچ منزلہ عمارت میں کئی ہوٹل چل رہے تھے۔ کمروں کا سائز چھوٹا تھا اور داخلے اور باہر نکلنے کے راستے بھی تنگ تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہاں ہنگامی انخلا کے لیے مناسب انتظامات اور آگ بجھانے کے ضروری آلات بھی نظر نہیں آئے۔ ایسے میں متعلقہ ایجنسیوں سے منظوری کیسے ملی، اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔  وزیر نے سابق شہری ترقی کے وزیر اور کولکاتا کے سابق میئر فرہاد حکیم پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تقریباً 15 برسوں میں ریاست میں بڑی تعداد میں غیر قانونی طور پر ہوٹلوں کا کاروبار فروغ پاتا رہا اور سابق حکومت کے دور میں ایسی اکائیوں کا مناسب معائنہ یا آڈٹ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو اقتدار میں آئے ابھی تقریباً 100 دن ہوئے ہیں اور اتنے کم وقت میں پوری ریاست میں ایسی تمام اکائیوں کی نشاندہی کرنا ممکن نہیں ہے۔  اگنی مترا پال نے کہا، ’’میری جگہ پر جو پہلے تھے، انہوں نے کیا کیا؟ ٹریڈ لائسنس کس نے دیا؟ سی ای ایس سی نے اجازت کیسے دی؟ ایک اے سی کی اجازت لے کر 10 اے سی چلائے گئے۔‘‘  سابق میئر فرہاد حکیم کے خلاف کارروائی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ پورے معاملے کی رپورٹ وزیر اعلیٰ کو سونپی جائے گی اور ذمہ داری طے کرنے کے لیے تحقیقات کی جائیں گی۔  لائسنس دیکھنا میئر کا کام نہیں : فرہاد  ادھر، فرہاد حکیم نے الزامات پر صفائی دیتے ہوئے کہا کہ کسی ہوٹل کے پاس ٹریڈ لائسنس ہے یا نہیں، یہ دیکھنا میئر کی ذمہ داری نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہوٹل کے پاس فائر بریگیڈ کا لائسنس تھا یا نہیں اور فائر سیفٹی آڈٹ ہوا تھا یا نہیں، اس کی معلومات فائر بریگیڈ محکمہ ہی فراہم کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان امور کی جانچ میئر کی سطح پر ممکن نہیں ہے۔  ریاست کے فائر بریگیڈ کے وزیر مملکت کوشک چودھری نے بھی الزام لگایا کہ فائر بریگیڈ محکمہ کے ہیڈکوارٹر کے قریب واقع یہ ہوٹل قانونی اجازت کے بغیر چل رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت کی غلطیوں کا خمیازہ موجودہ حکومت کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔  قابل ذکر ہے کہ اس آتشزدگی میں نو افراد کی موت ہوئی ہے۔ مرنے والوں کی شہریت کے حوالے سے بھی تحقیقات جاری ہیں۔ بنگلہ دیش کے نائب ہائی کمشنر محمد خالد نے کولکاتا میڈیکل کالج و اسپتال کے ایمرجنسی شعبے کا دورہ کیا اور پولیس سے معلومات حاصل کیں۔ ابتدائی معلومات کی بنیاد پر انہوں نے بتایا کہ مرنے والوں میں ایک جھارکھنڈ کا رہنے والا اور آٹھ افراد کے بنگلہ دیشی ہونے کا شبہ ہے۔ تاہم، شہریت کی باضابطہ تصدیق ابھی نہیں ہوئی ہے۔


کولکاتا، 19 اگست (ہ س): کولکاتا کے نیو مارکیٹ تھانہ علاقے کی مرزا غالب اسٹریٹ میں واقع ایک ہوٹل میں ہونے والی بھیانک آتشزدگی میں نو افراد کی موت کے بعد ہوٹل کو جاری کیے گئے ٹریڈ لائسنس، بجلی کے کنکشن اور فائر سیفٹی انتظامات کو لے کر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ریاست کی شہری ترقی کی وزیر اگنی مترا پال نے بدھ کو جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور ہوٹل کو مبینہ طور پر ضوابط کی خلاف ورزی کے باوجود اجازت ملنے پر سوال اٹھائے۔

اگنی مترا پال نے کہا کہ پانچ منزلہ عمارت میں کئی ہوٹل چل رہے تھے۔ کمروں کا سائز چھوٹا تھا اور داخلے اور باہر نکلنے کے راستے بھی تنگ تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہاں ہنگامی انخلا کے لیے مناسب انتظامات اور آگ بجھانے کے ضروری آلات بھی نظر نہیں آئے۔ ایسے میں متعلقہ ایجنسیوں سے منظوری کیسے ملی، اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

وزیر نے سابق شہری ترقی کے وزیر اور کولکاتا کے سابق میئر فرہاد حکیم پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تقریباً 15 برسوں میں ریاست میں بڑی تعداد میں غیر قانونی طور پر ہوٹلوں کا کاروبار فروغ پاتا رہا اور سابق حکومت کے دور میں ایسی اکائیوں کا مناسب معائنہ یا آڈٹ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو اقتدار میں آئے ابھی تقریباً 100 دن ہوئے ہیں اور اتنے کم وقت میں پوری ریاست میں ایسی تمام اکائیوں کی نشاندہی کرنا ممکن نہیں ہے۔

اگنی مترا پال نے کہا، ’’میری جگہ پر جو پہلے تھے، انہوں نے کیا کیا؟ ٹریڈ لائسنس کس نے دیا؟ سی ای ایس سی نے اجازت کیسے دی؟ ایک اے سی کی اجازت لے کر 10 اے سی چلائے گئے۔‘‘

سابق میئر فرہاد حکیم کے خلاف کارروائی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ پورے معاملے کی رپورٹ وزیر اعلیٰ کو سونپی جائے گی اور ذمہ داری طے کرنے کے لیے تحقیقات کی جائیں گی۔

لائسنس دیکھنا میئر کا کام نہیں : فرہاد

ادھر، فرہاد حکیم نے الزامات پر صفائی دیتے ہوئے کہا کہ کسی ہوٹل کے پاس ٹریڈ لائسنس ہے یا نہیں، یہ دیکھنا میئر کی ذمہ داری نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہوٹل کے پاس فائر بریگیڈ کا لائسنس تھا یا نہیں اور فائر سیفٹی آڈٹ ہوا تھا یا نہیں، اس کی معلومات فائر بریگیڈ محکمہ ہی فراہم کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان امور کی جانچ میئر کی سطح پر ممکن نہیں ہے۔

ریاست کے فائر بریگیڈ کے وزیر مملکت کوشک چودھری نے بھی الزام لگایا کہ فائر بریگیڈ محکمہ کے ہیڈکوارٹر کے قریب واقع یہ ہوٹل قانونی اجازت کے بغیر چل رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت کی غلطیوں کا خمیازہ موجودہ حکومت کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اس آتشزدگی میں نو افراد کی موت ہوئی ہے۔ مرنے والوں کی شہریت کے حوالے سے بھی تحقیقات جاری ہیں۔ بنگلہ دیش کے نائب ہائی کمشنر محمد خالد نے کولکاتا میڈیکل کالج و اسپتال کے ایمرجنسی شعبے کا دورہ کیا اور پولیس سے معلومات حاصل کیں۔ ابتدائی معلومات کی بنیاد پر انہوں نے بتایا کہ مرنے والوں میں ایک جھارکھنڈ کا رہنے والا اور آٹھ افراد کے بنگلہ دیشی ہونے کا شبہ ہے۔ تاہم، شہریت کی باضابطہ تصدیق ابھی نہیں ہوئی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande