جے پی ایس سی امتحان منسوخ ہونے کے بعد مقررہ ملازمین کو ہٹانے کے حکم کو ہائی کورٹ میں چیلنج
دوسری ملازمت چھوڑ کر ملازمت اختیار کی تھی، تربیت کے بعد تقرری منسوخ کرنا ناانصافی: درخواست گزار رانچی، 19 اگست (ہ س)۔ جھارکھنڈ حکومت کی جانب سے 11ویں سے 13ویں جے پی ایس سی سول سروس امتحان کی بنیاد پر مقرر کیے گئے ملازمین کو ہٹانے کے حکم کو جھارک
جے پی ایس سی امتحان منسوخ ہونے کے بعد مقررہ ملازمین کو ہٹانے کے حکم کو ہائی کورٹ میں چیلنج


دوسری ملازمت چھوڑ کر ملازمت اختیار کی تھی، تربیت کے بعد تقرری منسوخ کرنا ناانصافی: درخواست گزار

رانچی، 19 اگست (ہ س)۔

جھارکھنڈ حکومت کی جانب سے 11ویں سے 13ویں جے پی ایس سی سول سروس امتحان کی بنیاد پر مقرر کیے گئے ملازمین کو ہٹانے کے حکم کو جھارکھنڈ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست گزار سونم کماری نے حکومت کے اس نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا ہے، جس میں اشتہار نمبر 1/2024 کے تحت منعقدہ 11ویں سے 13ویں جے پی ایس سی سول سروس امتحان کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔

درخواست میں سونم کماری نے کہا ہے کہ انہوں نے دوسری جگہ کی ملازمت چھوڑ کر جھارکھنڈ میں تقرری کے بعد ملازمت اختیار کی تھی۔ انہیں 24 نومبر 2025 کو تقرری کا خط ملا تھا اور انہوں نے تربیت بھی مکمل کر لی تھی۔ اسی دوران ریاستی حکومت نے 18 اگست 2026 کو نوٹیفکیشن جاری کرکے ان کی تقرری منسوخ کر دی۔

درخواست گزار نے تقرری منسوخ کرنے سے متعلق حکومت کے حکم کو کالعدم قرار دینے کی درخواست ہائی کورٹ سے کی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس امتحان میں کامیاب 342 امیدوار اس وقت ملازمت کر رہے تھے۔

قابل ذکر ہے کہ سی آئی ڈی کی جانچ میں سامنے آئے حقائق کی بنیاد پر ریاستی حکومت نے ٹی ڈی پی ایل سے متعلق تمام امتحانات منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے علاوہ سال 2014 سے منعقد کیے گئے تمام تقرری امتحانات میں ممکنہ بے ضابطگیوں کے پیش نظر تحقیقات کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande