امریکہ سے مفاہمت کا موقع ضائع کرنا ایران کے لیے مہنگا ثابت ہوگا: سابق ایرانی صدر محمد خاتمی نے کیا خبردار
تہران،19اگست(ہ س)۔ ایران کے سابق صدر محمد خاتمی نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کی عارضی یادداشت کو تہران کے لیے ایک غیر معمولی اور اہم موقع قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اسے ضائع کرنا ایران کو مزید سنگین مشکلات سے دوچار کر سکتا ہے۔خاتمی نے
امریکہ سے مفاہمت کا موقع ضائع کرنا ایران کے لیے مہنگا ثابت ہوگا: سابق ایرانی صدر محمد خاتمی نے کیا خبردار


تہران،19اگست(ہ س)۔ ایران کے سابق صدر محمد خاتمی نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کی عارضی یادداشت کو تہران کے لیے ایک غیر معمولی اور اہم موقع قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اسے ضائع کرنا ایران کو مزید سنگین مشکلات سے دوچار کر سکتا ہے۔خاتمی نے منگل کو جاری اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ یہ مفاہمت ایک ’’بے مثال‘‘ موقع ہے۔ ان کے بقول دوسری عالمی جنگ کے بعد کسی امریکی صدر کی جانب سے دستخط کی گئی کسی دستاویز میں فریقِ مقابل کو اس قدر مراعات فراہم نہیں کی گئیں۔

سابق ایرانی صدر نے کہا کہ وہ ہر ایسے اقدام کی حمایت کرتے ہیں جس کے ذریعے جنگ کا خاتمہ ہو، ایران پر عائد پابندیاں اور دیگر رکاوٹیں ختم ہوں اور ملک کے لیے بہتر مستقبل کی راہ ہموار ہو۔انہوں نے جنگ کے دوران ایران کی داخلی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غلط پروپیگنڈے اور نامناسب نعروں کے نتیجے میں عوام کی شرکت اور حمایت میں بتدریج کمی واقع ہو رہی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو واضح کیا کہ ایران کے ساتھ نہ تو اس وقت کوئی مذاکرات جاری ہیں اور نہ ہی مستقبل قریب میں مذاکرات کی کوئی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی بندرگاہوں کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی بدستور جاری رہے گی اور اسے پوری شدت کے ساتھ برقرار رکھا جائے گا۔آبنائے ہرمز کے بارے میں امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ یہ آبی گزرگاہ کھلی ہے اور معمول کے مطابق کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں موجود بحری بارودی سرنگیں یا تو ہٹا دی گئی ہیں یا انہیں دھماکے سے تباہ کر دیا گیا ہے۔

ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سرکاری ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک مکمل طور پر نہیں کھولی جائے گی جب تک امریکہ مفاہمت کی عارضی یادداشت میں درج اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا۔قالیباف کے مطابق ان ذمہ داریوں میں ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی، ایرانی تیل پر عائد پابندیوں کا خاتمہ، مختلف محاذوں پر دھمکیوں اور فوجی کارروائیوں کو روکنا اور واشنگٹن کی جانب سے کیے گئے دیگر وعدوں پر عمل درآمد شامل ہے۔انہوں نے بعد میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر بھی کہا کہ ایران پر دباؤ بڑھا کر ایسی رعایتیں حاصل نہیں کی جا سکتیں جو پہلے سے طے شدہ مفاہمت کا حصہ نہیں ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی نے اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ ایرانی دھمکیوں اور پابندیوں کے باعث آبنائے سے گزرنے والی بحری آمدورفت میں رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں۔ تہران نے آبنائے سے گزرنے والے بعض بحری جہازوں کے لیے پیشگی اجازت کی شرط عائد کرنے کے ساتھ ’’سروس فیس‘‘ لینے کی کوشش بھی کی، تاہم امریکہ اور خطے کے دیگر ممالک نے اسے مسترد کر دیا۔اس کے جواب میں امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی نافذ کر دی، جس کے نتیجے میں جہازوں کے لیے ان بندرگاہوں میں داخل ہونا یا وہاں سے روانہ ہونا انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔ خطے میں امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں اور دیگر فوجی اثاثوں کی موجودگی نے بھی کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان گزشتہ جون میں مفاہمت کی عارضی یادداشت پر دستخط کے بعد 60 دن کے اندر متعدد پیچیدہ معاملات پر ایک وسیع تر معاہدے تک پہنچنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ ان معاملات میں ایران کا جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کا انتظام بنیادی اہمیت رکھتے تھے۔تاہم 7 جولائی کو مذاکرات شروع ہونے سے قبل ہی عمل رک گیا اور پیر کو مقررہ 60 روزہ مدت بھی کسی نمایاں پیش رفت کے بغیر ختم ہوگئی۔ اس کے بعد تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی، سخت بیانات اور باہمی الزامات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔موجودہ صورتحال میں محمد خاتمی کی جانب سے مفاہمت کو برقرار رکھنے کی اپیل اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مذاکرات سے انکار نے ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعطل کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز، ایرانی تیل پر پابندیوں اور جوہری پروگرام جیسے معاملات اب بھی دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی ممکنہ وسیع تر سمجھوتے کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande