
شملہ، 19 اگست (ہ س)۔ ہماچل پردیش میں مسلسل شدید بارش کی وجہ سے عام زندگی متاثر ہوئی ہے۔ بدھ کو ریاست کے کئی حصوں میں بارش کا سلسلہ جاری رہا۔ لینڈ سلائیڈنگ، درخت گرنے اور پانی جمع ہونے کے واقعات نے لوگوں کی پریشانیوں میں اضافہ کیا ہے۔ اس وقت ریاست میں 279 سڑکیں بند ہیں، جبکہ مانسون سے ہونے والا نقصان ایک ہزار کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے۔ کئی علاقوں میں بجلی اور پینے کے پانی کی خدمات بھی متاثر ہوئی ہیں۔ محکمہ موسمیات نے 21 اگست تک شدید بارش کا ایلو الرٹ جاری کیا ہے۔
موسمیاتی مرکز شملہ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں سب سے زیادہ 156 ملی میٹر بارش ہمیر پور ضلع کے سوجن پورٹہرا میں ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ بلاس پور ضلع کی نینا دیوی میں 136 ملی میٹر، ہمیر پور کے نادون میں 128 ملی میٹر، کانگڑا ضلع کے دھرم شالہ میں 127 ملی میٹر، اونا ضلع کے بھروین میں 118 ملی میٹر، کانگڑا کے گگل اور پالم پور میں111-111ملی میٹر اور نگروٹا سوریاں میں 90 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
شدید بارش کی وجہ سے ریاست کے زیادہ تر دریا افان پر ہیں۔ کئی مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے سڑک رابطہ متاثر ہوا ہے۔ اسٹیٹ ایمرجنسی آپریشن سنٹر کے مطابق بدھ کی صبح تک ریاست میں 279 سڑکیں بند تھیں۔ ان میں سے 100 سڑکیں سب سے زیادہ منڈی ضلع میں متاثر ہوئی ہیں۔ چمبا میں 83، شملہ میں 26، کلو میں 25 اور سرمور میں 16 سڑکیں بند ہیں۔ کئی دیہی علاقوں سے رابطہ بھی متاثر ہوا ہے۔
بارش نے بجلی اور پینے کے پانی کے نظام کو بھی متاثر کیا ہے۔ ریاست میں 310 پاور ٹرانسفارمرز اور پینے کے پانی کی 84 اسکیمیں متاثر ہوئی ہیں۔ ضلع لاہول-اسپیتی کے سب ڈویژن ا سپیتی میں 101 ٹرانسفارمرز میں خرابی کی وجہ سے بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔ سرمور ضلع کے ناہن، پاونٹا صاحب اور راج گڑھ علاقوں میں 78 ٹرانسفارمر بند ہیں۔ منڈی ضلع کے گوہر، سندر نگر، سرکاگھاٹ اور دھرم پور علاقوں میں 64 ٹرانسفارمرز کو نقصان پہنچا ہے۔ شملہ ضلع کے چوپال اور ڈوڈرا-کوار علاقوں میں 27 ٹرانسفارمر متاثر ہوئے ہیں۔
بارش نے پینے کے پانی کی اسکیموں کو بھی متاثر کیا ہے۔ ہمیر پور ضلع کے بڑسر اور بھوٹا علاقوں میں پینے کے پانی کی 32 اسکیمیں متاثر ہوئی ہیں۔ سرمور ضلع کے علاقے سنگرہ میں پینے کے پانی کی 23 اسکیمیں اور شملہ ضلع کے رام پور، چوپال اور جبل علاقوں میں 17 اسکیمیں بند ہیں۔
محکمہ موسمیات نے بدھ کے روز ہمیر پور، چمبا، کانگڑا، کلو، منڈی، شملہ اور سرمور اضلاع میں کچھ مقامات پر شدید بارش کا ایلو الرٹ جاری کیا ہے۔ محکمہ کے مطابق 20 اور 21 اگست کو بھی ریاست کے کئی حصوں میں شدید بارش کی توقع ہے۔ جبکہ22 سے 25 اگست تک ہلکی بارش کابھی امکان ہے، حالانکہ اس مدت کے لیے کوئی انتباہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔
اس دوران، ضلع لاہول-اسپیتی کی میاڑ گھاٹی میں اچانک آنے والے سیلاب نے مقامی لوگوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ کرپٹ نالے اورچوکھنگ نینگر کے گواڑی نالے میں پانی کی سطح میں اچانک اضافے سے بھاری نقصان ہوا ہے۔ کرپٹ نالے پر پل مکمل طور پر پانی میں ڈوبا ہوا تھا اور گاو¿ں کو جوڑنے والی مرکزی سڑک منقطع ہو گئی تھی۔ سیلاب سے قابل کاشت زمین اور فصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے اور تمام گاو¿ں والوں کے محفوظ ہونے کی اطلاع ہے۔
سیلاب کی وجہ سے چوکھنگ نینگر روڈ کی بحالی کا کام بھی متاثر ہوا ہے۔ انتظامیہ نے راستے کو بحال کرنے کی کوشش کی تھی لیکن دوبارہ سیلاب کی وجہ سے کام روکنا پڑا۔ اب موسم بہتر ہونے پر بحالی کا کام دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ علاقے کی ایم ایل اے انورادھا رانا نے انتظامیہ کو فوری طور پر نقصان کا جائزہ لینے اور متاثرہ لوگوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
مانسون سے ہونے والے نقصان کا دائرہ وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔ مانسون 30 جون کو ریاست میں آیا تھا۔ تب سے اب تک بارش سے متعلق مختلف واقعات میں 197 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں سے 116 افراد سڑک حادثات میں ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ پہاڑیوں سے گرنے یا درخت گرنے کے واقعات میں 28 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ لینڈ سلائیڈنگ میں 14 افراد ہلاک ہوئے، پانچ افراد بہہ گئے اور ایک شخص اچانک آنے والے سیلاب کے واقعے میں ہلاک ہو گیا۔
اسٹیٹ ایمرجنسی آپریشن سنٹر کے مطابق مانسون کے دوران اب تک سرکاری اور نجی املاک کو پہنچنے والا نقصان 1,000 کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے۔ پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ کو سب سے زیادہ 750 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ محکمہ جل شکتی کو ہونے والے نقصان کا تخمینہ 227 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ مانسون کے دوران اب تک 85 مکانات، 14 دکانیں اور 284 مویشیوں کے شیڈ مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں جبکہ 320 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی