
نئی دہلی، 19 اگست (ہ س)۔
دہلی ہائی کورٹ نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کرنے والی درخواست پر سماعت سے انکار کر دیا ہے۔ چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ یہ درخواست مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) کے طور پر دائر کی گئی ہے، لیکن اس میں ذاتی راحت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ وہ اس درخواست کو اس کی موجودہ شکل میں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس کے بعد درخواست گزار کی جانب سے پیش ہوئے وکیل ابھشت ہیلا نے کہا کہ انہیں مناسب راحت کا مطالبہ کرنے کے لیے نئی درخواست دائر کرنے کی اجازت دی جائے۔ ہیلا نے کہا کہ وہ ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے الگ سے مفاد عامہ کی عرضی دائر کریں گے۔ اس کے بعد عدالت نے اس مطالبے کو منظور کرتے ہوئے نئی درخواست دائر کرنے کی اجازت دے دی۔
یہ درخواست نیٹ کے امیدوار رشی کیلاش اور فاطمہ نے دائر کی تھی۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ قومی اہمیت کے آئندہ امتحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے این ٹی اے کو تحلیل کرنے کے لیے ہدایات جاری کی جائیں۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ قومی اہمیت کے امتحانات منعقد کرانے کے لیے ایک خودمختار ادارہ تشکیل دیا جائے۔
درخواست میں کہا گیا تھا کہ درخواست گزاروں میں سے ایک، رشی کیلاش، 2026 میں دوبارہ منعقد ہونے والے نیٹ امتحان میں شامل ہوا تھا۔ اس امتحان کے دوران کئی بے ضابطگیاں سامنے آئی تھیں۔ یہاں تک کہ او ایم آر شیٹ کے ساتھ بھی چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی۔ درخواست میں نیٹ 2026 کے نتائج کو چیلنج کیا گیا تھا اور رشی کیلاش کے نمبروں کی دوبارہ جانچ کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ