
بھاو نگر (گجرات)، 19 اگست(ہ س)۔ بھاو نگر ضلع میں نقلی 'رائل اسٹیگ' برانڈ کی شراب کا قہربرپا ہے۔ زہریلی شراب کے استعمال کے خدشات کے درمیان مزید دو اموات کی اطلاع کے ساتھ ہلاکتوں کی تعداد تین ہو گئی ہے۔ ہلاک ہونے والوں کی شناخت کارتک اشون بھائی مکوانا (40)، اپیندر سنگھ چندر سنگھ گوہل (25) اور نریندر سنگھ یادو کے طور پر ہوئی ہے، یہ سب مدھیہ پردیش کے اندور کے رہائشی ہیں۔
ضلع کلکٹر کے مطابق سول اسپتال میں 8 اور نجی اسپتالوں میں 9 مریضوں کی حالت اس وقت معمول کے مطابق بتائی گئی ہے۔ریاستی حکومت نے واقعے کی تحقیقات ریاستی نگرانی سیل (ایس ایم سی) کے حوالے کر دی ہے۔
18 اگست کی دیر رات نائب وزیر اعلی ہرش سنگھوی نے احمد آباد ہوائی اڈے پر سینئر حکام کے ساتھ میٹنگ کی، جن میں ریاستی پولیس چیف جی ایس ملک، آئی بی چیف اور احمد آباد پولیس کمشنر شامل تھے۔ ایس ایم سی ایس پی میور چاوڑا کو ملزم کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایات کے ساتھ فوری طور پر بھاونگر بھیج دیا گیا ہے۔
پولیس کی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ سات دوستوں نے 16 اگست کی رات گھگھا تحصیل کے کھڑکڑی گاو¿ں میں پارٹی کی تھی۔ اس کے بعد کئی لوگوں کی صحت بگڑ گئی۔ اپیندر سنگھ گوہل کی علاج کے دوران موت ہوگئی تھی۔ دو دیگرکی بعد میں موت ہوگئی تھی ۔
پولیس کے مطابق فی الحال خیال کیا جا رہا ہے کہ اس معاملہ کا تعلق نقلی 'رائل اسٹیگ' کے استعمال سے ہے نہ کہ لٹھا کانڈ سے۔ پولیس نے نقلی شراب فراہم کرنے کے الزام میں چارشراب فروشوں کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔
شراب پینے کے بعد اپیندر سنگھ نے سانس لینے میں دشواری، الٹی اور متلی کی شکایت کی۔ انہیں بھاو نگر کے سر ٹی اسپتال لے جایا گیا، جہاں علاج کے دوران ان کی موت ہو گئی۔ دیگر متاثرہ افراد کو مختلف اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے، جبکہ ایک شخص کو اس کی تشویشناک حالت کے پیش نظر مزید علاج کے لیے جام نگر بھیج دیا گیا ہے۔
پولیس نے اس سلسلے میں حادثاتی موت کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ لاشوں کا پوسٹ مارٹم جاری ہے۔ موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ موصول ہونے کے بعد معلوم ہوگی۔
ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے مشتبہ یانقلی شراب پینے والے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ علامات ظاہر ہونے کا انتظار نہ کریں اور فوری طور پر طبی معائنے کے لیے اسپتال جائیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی