کانگریس نے نوجوانوں کی صورتحال، چڑھاوا چوری اور سرحدی سلامتی پر حکومت سے جواب مانگا
نئی دہلی، 19 اگست(ہ س)۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کے اجلاس میں نوجوانوں کی صورتحال، رام مندر کے چڑھاوا چوری اور سرحدی سلامتی جیسے مسائل پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا۔ انہوں نے اجلاس میں ورکنگ کمیٹی کے ارکان سے
کانگریس نے نوجوانوں کی صورتحال، چڑھاوا چوری اور سرحدی سلامتی پر حکومت سے جواب مانگا


نئی دہلی، 19 اگست(ہ س)۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کے اجلاس میں نوجوانوں کی صورتحال، رام مندر کے چڑھاوا چوری اور سرحدی سلامتی جیسے مسائل پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا۔ انہوں نے اجلاس میں ورکنگ کمیٹی کے ارکان سے ان تمام مسائل پر گہرائی سے غور کرنے اور ریاستوں میں ہونے والے آئندہ اسمبلی انتخابات کی تیاری کرنے کی اپیل کی۔ اجلاس میں سونیا گاندھی، راہل گاندھی، کے سی وینوگوپال اور پرینکا گاندھی سمیت پارٹی کے تمام اہم اعلیٰ رہنما موجود تھے۔

کھڑگے نے کہا کہ پارلیمنٹ کے اجلاس کے بعد پہلی بار ہم سب مل رہے ہیں اور سب سے بڑی تشویش نوجوانوں کی ہے۔ حکومت کی غلط پالیسیوں نے نوجوانوں کو مایوسی اور بے روزگاری کے دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ تعلیم اور روزگار کو نظر انداز کرنے، پیپر لیک اور بھرتی گھوٹالوں نے نوجوانوں کو سڑکوں پر اترنے پر مجبور کر دیا ہے۔ کانگریس نوجوانوں کے لیے واضح اور مقررہ مدت پر مبنی تعلیم سے روزگار تک کا روڈ میپ تیار کرے گی۔انہوں نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کی پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نوجوانوں کو مرکز میں رکھتے ہوئے ووٹنگ کی عمر کم کی، نوودیا اسکولوں کا نیٹ ورک قائم کیا اور تعلیمی پالیسی میں روزگار اور ہنرمندی کی ترقی کو شامل کیا۔ کانگریس کی حکومتوں نے تعلیم اور آئی ٹی انقلاب کے ذریعے ملک کو نئی سمت دی، لیکن گزشتہ 12 برسوں میں مودی حکومت نے نوجوانوں کا مستقبل تباہ کر دیا ہے۔

کھڑگے نے کہا کہ وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میں رام مندر ٹرسٹ کے قیام کا اعلان کیا تھا اور عوام نے ایمانداری کی امید کے ساتھ چندہ دیا، لیکن وہاں ایک بڑا گھوٹالا سامنے آیا ہے۔ وزیر اعظم کو عقیدت مند عوام سے معافی مانگنی چاہیے اور واضح جواب دینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ چین کی جانب سے تجاوزات سے متعلق سنگین حقائق سامنے آئے ہیں، لیکن حکومت نے ایمانداری سے معلومات دینے کے بجائے خبروں کو غلط قرار دیا۔ قومی سلامتی پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، لیکن اسے نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔ گلوان جھڑپ کے بعد وزیر اعظم کا یہ بیان کہ ’نہ کوئی گھس آیا ہے اور نہ کوئی گھسا ہوا ہے‘ آج بھی سوالات کے گھیرے میں ہے۔

کھڑگے نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل، عوام کا عقیدہ اور ملک کی سرحدیں، تینوں سوال حکومت کی جواب دہی سے متعلق ہیں۔ انہوں نے ورکنگ کمیٹی سے اپیل کی کہ ان مسائل پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے ملک کے سامنے متبادل اور حل پیش کیے جائیں۔ پانچ ریاستوں کے انتخابات سامنے ہیں اور کانگریس کو پوری تیاری کرنی ہوگی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande