کابینہ: قومی شاہراہ-22 کے مظفرپور-سیتامڑھی-سونبرسا سیکشن کو چار لین کرنے کی منظوری
نئی دہلی، 19 اگست (ہ س): مرکزی حکومت نے بدھ کو بہار میں قومی شاہراہ-22 (این ایچ-22) کے مظفرپور-سیتامڑھی-سونبرسا سیکشن کو چار لین معیار کے مطابق اپ گریڈ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے کو ہائبرڈ اینوئٹی موڈ (ایچ اے ایم) کے تحت تیار کیا جائے گا۔ ا
کابینہ: قومی شاہراہ-22 کے مظفرپور-سیتامڑھی-سونبرسا سیکشن کو چار لین کرنے کی منظوری


نئی دہلی، 19 اگست (ہ س): مرکزی حکومت نے بدھ کو بہار میں قومی شاہراہ-22 (این ایچ-22) کے مظفرپور-سیتامڑھی-سونبرسا سیکشن کو چار لین معیار کے مطابق اپ گریڈ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے کو ہائبرڈ اینوئٹی موڈ (ایچ اے ایم) کے تحت تیار کیا جائے گا۔ اس کی مجموعی سرمایہ لاگت 3590.73 کروڑ روپے ہوگی اور اس کی کل لمبائی 82.578 کلومیٹر ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں اقتصادی امور کی کابینہ کمیٹی نے وزارتِ سڑک ٹرانسپورٹ کے اس منصوبے کو منظوری دی۔ مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے آج نیشنل میڈیا سینٹر میں اس کی معلومات دی۔

انہوں نے بتایا کہ یہ ایک اہم فیڈر کوریڈور کے طور پر سونبرسا میں بھارت-نیپال سرحد کو این ایچ-27 (مشرق-مغرب کوریڈور) پر واقع مظفرپور جیسے اقتصادی مراکز سے جوڑے گا۔ اس منصوبے سے مظفرپور، مکسودپور، رونی سیدپور، تھوما، دومرا، بھوتہی اور سونبرسا کے گنجان آباد علاقوں میں ٹریفک کے دباؤ کو کافی کم کرنے میں مدد ملے گی۔

اس منصوبے میں ٹریفک کی ہموار آمدورفت برقرار رکھنے اور محفوظ، تیز رفتار سفر یقینی بنانے کے لیے سات بڑے پلوں، جن میں سال بھر بہنے والی باگمتی ندی پر 340 میٹر طویل ایک بڑا پل بھی شامل ہے، تین ریلوے اوور برج (آر او بی) اور دو فلائی اوورز (1170 میٹر اور 270 میٹر) کی تعمیر کا انتظام کیا گیا ہے۔

اس منصوبے سے مسافروں اور مال برداری کی تیز اور محفوظ آمدورفت، سفری کارکردگی میں بہتری اور علاقائی رابطے کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ اسے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ اور 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی اوسط رفتار کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس میں سڑک کے درمیان ڈیوائیڈر میں سطحی راستے کا کوئی کھلا حصہ نہیں ہوگا، جس سے تیز اور محفوظ سفر یقینی بنایا جاسکے گا۔

این ایچ-22 کا مظفرپور-سیتامڑھی-سونبرسا سیکشن اسٹریٹجک اور اقتصادی اعتبار سے انتہائی اہم ہے، جو قومی مال برداری گرڈ سے بلا رکاوٹ رابطہ یقینی بناتا ہے۔ یہ این ایچ-31 اور این ایچ-122 جیسے موجودہ کوریڈورز کے ساتھ تال میل قائم کرکے برونی جیسے صنعتی علاقوں اور دریائے گنگا کے کنارے واقع لاجسٹکس مراکز سے بہتر رابطہ فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ یہ بھٹامور میں واقع قریبی لینڈ پورٹ کے ذریعے سرحد پار مسافروں اور مال برداری کی آمدورفت کو بھی فروغ دے گا۔

یہ منصوبہ بہار کے اہم اقتصادی، سماجی اور لاجسٹکس مراکز کو بلا رکاوٹ رابطہ فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ اپ گریڈ کیے گئے کوریڈور سے پی ایم گتی شکتی کے پانچ اقتصادی مراکز، جن میں چار صنعتی اسٹیٹس اور ایک میگا فوڈ پارک شامل ہیں، چار سماجی مراکز، جن میں بابا غریب ناتھ مندر، ماتا جانکی مندر، پونورا دھام اور مظفرپور و سیتامڑھی کے خواہش مند اضلاع شامل ہیں، اور دو لاجسٹکس مراکز، یعنی مظفرپور اور سیتامڑھی ریلوے اسٹیشن، کے لیے رابطے میں بہتری آئے گی۔ اس سے پورے علاقے میں مال اور مسافروں کی تیز آمدورفت آسان ہوگی۔

اس منصوبے سے اوسط سفری رفتار میں اضافہ، سفر کے وقت میں کمی اور مجموعی سڑک کی حفاظت، ایندھن کی بچت اور گاڑیوں کے آپریشنل اخراجات میں بہتری آئے گی۔ اس سے علاقائی آمدورفت اور سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ ملے گا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande