
کولکاتا، 19 اگست(ہ س)۔ ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری اور ایم پی ابھیشیک بنرجی کے ذاتی بینک کھاتے کو منجمد کرنے کے خلاف عرضی پر بدھ کو کلکتہ ہائی کورٹ میں سماعت نہیں ہو سکی۔ جسٹس کرشنا راو نے معاملے کو جمعرات تک ملتوی کر دیا اور متعلقہ بینک انتظامیہ سے رپورٹ داخل کرنے کو کہا۔
ابھیشیک کے وکیل ایان بھٹاچاریہ نے پیر کو جسٹس راو کے سامنے اس معاملے کا ذکر کرتے ہوئے فوری سماعت کی درخواست کی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ابھیشیک کو جلد ہی طبی علاج کے لیے بیرون ملک جانا ہے اور اس دوران ان کا ذاتی بینک اکاونٹ منجمد کر دیا گیا ہے۔ وکیل نے دعوی کیا کہ بینک کی جانب سے اکاونٹ منجمد کرنے کی وجہ بھی نہیں بتائی گئی ہے۔
ابھیشیک کے وکیل نے یہ بھی سوال کیا کہ انڈین سول ڈیفنس کوڈ کی دفعہ 107 کے تحت مطلوبہ طریقہ کار پر عمل کیے بغیر بینک اکاونٹ کو کیسے منجمد کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس شق کے تحت پولیس کو اکاونٹ منجمد کرنے کے لیے متعلقہ مجسٹریٹ سے درخواست کرنی ہوتی ہے۔ ان کا دعوی ہے کہ ابھیشیک کے معاملے میں اس طرح کے طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا۔
وکیل کو سننے کے بعد جسٹس راونے مقدمہ دائر کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ عدالت نے یہ بھی پوچھا تھا کہ کیا ابھیشیک کے خلاف کوئی تفتیش جاری ہے۔ اس پر ان کے وکیل نے کہا کہ ابھیشیک عدالت کی ہدایت کے مطابق تحقیقات میں تعاون کر رہے ہیں اور تحقیقات کا ان کے بینک اکاونٹ کو منجمد کرنے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کے بعد عدالت نے ہدایت کی کہ اس معاملے میں ملوث دیگر فریقوں کو نوٹس جاری کیے جائیں۔
10 اگست کو سپریم کورٹ نے ابھیشیک کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی۔ عدالت عظمی نے انہیں تین ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے اور علاج کروانے کی اجازت دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے غیر ملکی سفر میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔ اس سے قبل ابھیشیک نے بیرون ملک سفر کرنے کی اجازت کے لیے کلکتہ ہائی کورٹ کا رخ کیا تھا، لیکن وہاں ان کی عرضی کو مسترد کر دیا گیاتھا۔ اس کے بعد انہوں نے 7 اگست کی دیررات دیر سپریم کورٹ کا رخ کیاتھا۔
ہندوستان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی