
نئی دہلی، 19 اگست (ہ س)۔
عام آدمی پارٹی (آپ) کے قومی کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر دہلی کے سابق وزیر ستیندر جین کو گرفتار کرانے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب گرفتاریاں جرم دیکھ کر نہیں بلکہ سیاست کی بنیاد پر ہوتی ہیں۔ وہیں اسمبلی میں قائد حزب اختلاف آتشی نے اسے انتقامی کارروائی قرار دیا۔
اروند کیجریوال نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرکے ستیندر جین کی گرفتاری کے وقت پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ جین کو امت شاہ کی ہدایت پر گرفتار کیا گیا۔
کیجریوال نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) کے ایک افسر سے بات کی تھی۔ پہلے ستیندر جین کو گرفتار کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا، لیکن وزیر داخلہ امیت شاہ کے ایک فون کے بعد انہیں دوپہر میں گرفتار کر لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اب گرفتاری اس بنیاد پر نہیں ہوتی کہ کسی شخص نے جرم کیا ہے یا نہیں، بلکہ اس بنیاد پر ہوتی ہے کہ حکومت اگلا نشانہ کس کو بنانا چاہتی ہے۔
وہیں دہلی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف آتشی نے کہا کہ جب ستیندر جین کو پہلے گرفتار کیا گیا تھا تو وہ ہماچل پردیش کے لیے پارٹی کے انچارج تھے، اور اب پنجاب کے شریک انچارج ہیں، جہاں فروری میں انتخابات ہونے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت اپنے سیاسی مفادات کے لیے انہیں نشانہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جین کی گرفتاری حکومت کی انتقامی کارروائی کا حصہ ہے۔ حکومت گھوٹالے کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے عام آدمی پارٹی کے رہنماو¿ں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا رہی ہے۔
آتشی نے کہا کہ پہلے ستیندر جین کو جھوٹے معاملے میں دو سال تک جیل میں رکھا گیا اور بعد میں کوئی ثبوت نہ ملنے پر رہا کر دیا گیا۔ آج پھر ان کی گرفتاری جھوٹی سیاست کا حصہ ہے اور حکومت انہیں پھنسانے کا کام کر رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ