شیوسینا تنازع: ادھو گروپ نے سپریم کورٹ میں کہا، شندے گروپ کو نام اور تیر کمان کا نشان دینا غیر قانونی
نئی دہلی، 19 اگست (ہ س)۔ شیوسینا تنازع کے معاملے کی سماعت کے دوران بدھ کے روز شیوسینا کے ادھو ٹھاکرے دھڑے کی جانب سے کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ایکناتھ شندے دھڑے کو شیوسینا کا نام اور تیر کمان کا انتخابی نشان الاٹ کرنے کا فیصلہ غیر قانونی
شیوسینا تنازع: ادھو گروپ نے سپریم کورٹ میں کہا، شندے گروپ کو نام اور تیر کمان کا نشان دینا غیر قانونی


نئی دہلی، 19 اگست (ہ س)۔

شیوسینا تنازع کے معاملے کی سماعت کے دوران بدھ کے روز شیوسینا کے ادھو ٹھاکرے دھڑے کی جانب سے کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ایکناتھ شندے دھڑے کو شیوسینا کا نام اور تیر کمان کا انتخابی نشان الاٹ کرنے کا فیصلہ غیر قانونی تھا۔ الیکشن کمیشن کے اس فیصلے نے پارٹی کی جمہوریت کو کم تر سمجھتے ہوئے اصل پارٹی سے الگ ہونے والے اراکینِ اسمبلی کو انعام دے دیا۔

ادھو دھڑے کی جانب سے الزام لگایا گیا کہ قانون ساز پارٹی میں اکثریت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اسے پوری پارٹی اور تنظیم پر بھی قبضہ حاصل ہو جائے۔ الیکشن کمیشن نے باغی دھڑے کو تسلیم کرکے اصل پارٹی کے ارکان اور تنظیم کے نمائندوں کی آواز کو دبا دیا۔

سماعت کے دوران ایکناتھ شندے دھڑے کی جانب سے کہا گیا کہ پارٹی تنظیم اور اراکینِ اسمبلی کے درمیان حقیقی اکثریت اسی کے پاس ہے اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا تھا۔

اس سے قبل سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے سوال کیا تھا کہ شیوسینا سے مراد کس کو لیا جائے، پوری سیاسی پارٹی، ورکنگ کمیٹی یا قانون ساز پارٹی کو۔

سماعت کے دوران ادھو دھڑے کی جانب سے سینئر وکیل کپل سبل نے کہا تھا کہ شیوسینا قواعد و ضوابط کے مطابق چلنے والی پارٹی ہے اور یہ پارٹی عوامی نمائندگی قانون کی دفعہ 29A کے تحت ہر چھوٹی بڑی تبدیلی کی اطلاع الیکشن کمیشن کو دیتی ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ پارٹی کے قواعد کے مطابق پارٹی سربراہ کا انتخاب کرنے کا اختیار صرف قومی عاملہ کے پاس ہے۔ سبل نے کہا کہ باغی دھڑے نے بغیر کسی جمہوری عمل کے پارٹی سربراہ کو ہٹا دیا اور خود اس عہدے پر قابض ہو گئے، جو شیوسینا کے آئین کی براہِ راست خلاف ورزی تھی۔

ہندوستھان سماچار

س

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande