روس کے ساتھ جنگ میں یوکرین بے بس، امریکی پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز تقریباً ختم
کیف، 18 اگست (ہ س)۔ روس کے ساتھ جاری جنگ میں یوکرین بے بس ہوگیا ہے۔ اس کے پاس روسی بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے لیے اب امریکی پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔ ویسے بھی یہ دنیا کے سب سے زیادہ مطلوب ہتھیاروں میں سے ایک ہے۔ امریکہ میں تی
روس کے ساتھ جنگ میں یوکرین بے بس، امریکی پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز تقریباً ختم


کیف، 18 اگست (ہ س)۔ روس کے ساتھ جاری جنگ میں یوکرین بے بس ہوگیا ہے۔ اس کے پاس روسی بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے لیے اب امریکی پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔ ویسے بھی یہ دنیا کے سب سے زیادہ مطلوب ہتھیاروں میں سے ایک ہے۔ امریکہ میں تیار کیے جانے والے پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کے ذریعے درجنوں ممالک اپنے دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ان چند ہتھیاروں میں شامل ہے جو بیلسٹک میزائلوں کو مار گرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

سی این این نے اپنی رپورٹ میں امریکی پیٹریاٹ انٹرسیپٹر کو یوکرین کے ایک نامعلوم مقام پر مکئی کے کھیت میں بے کار پڑا دکھایا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس کے کینسٹر خالی ہیں اور اسے آخری بار 10 ہفتے قبل استعمال کیا گیا تھا۔ سی این این کا کہنا ہے کہ وہ پہلا میڈیا ادارہ ہے جسے یوکرینی علاقے میں پیٹریاٹ تک مشروط رسائی کی اجازت ملی۔ یوکرین کے فضائی دفاعی نظام کے چیف انجینئر دمتریو نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ چھ ہفتوں سے پیٹریاٹ لانچر کو چلتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔

صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ موسم سرما میں روس کے ساتھ جنگ میں برقرار رہنے کے لیے انہیں امریکی ذخیرے کا 5 فیصد درکار ہے۔ فی الحال ان کے پاس صرف ایک فیصد ہے۔ دمتریو نے کہا، یہ واقعی دل توڑ دینے والا منظر ہے کہ آپ کے پاس سامان موجود ہو لیکن آپ کسی میزائل کو روک نہ سکیں۔ بیلسٹک میزائل آپ کے سر کے اوپر سے گزر رہے ہوں اور آپ ان کے خلاف کچھ نہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال دسمبر 2025 سے برقرار ہے۔

پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کی فراہمی میں عالمی بحران اس لیے پیدا ہوا کیونکہ مارچ اور اپریل میں خلیجی ممالک میں ان کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا۔ فارن پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، ایران کے ساتھ جنگ کے ابتدائی چار دنوں میں اتحادی افواج نے روزانہ اوسطاً 225 انٹرسیپٹرز استعمال کیے۔ ادارے نے بتایا کہ انہیں تیار کرنے والی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن نے 2025 میں 620 انٹرسیپٹرز تیار کیے، یعنی روزانہ تقریباً 1.7، جس سے استعمال اور پیداوار کے درمیان 132 اور ایک کا فرق پیدا ہوگیا۔ جنوری میں پینٹاگون نے لاک ہیڈ مارٹن کے ساتھ سات سالہ معاہدہ کیا، جس کے تحت 2030 تک ہر سال 2,000 انٹرسیپٹرز تیار کیے جانے ہیں۔ اس وقت تک یوکرین میں جنگ کو آٹھ سال ہوچکے ہوں گے۔

یہ واضح نہیں ہے کہ امریکہ نے یوکرین کو کتنے انٹرسیپٹرز دینے کا وعدہ کیا ہے یا امریکہ کے پاس ان کا کتنا ذخیرہ موجود ہے۔ زیلنسکی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ انہوں نے ریتھیون اور لاک ہیڈ مارٹن کو یوکرین میں انٹرسیپٹرز تیار کرنے والے کسی بھی پلانٹ کی ملکیت اور کنٹرول دینے کی پیشکش کی تھی۔

انہوں نے امریکی کمپنیوں سے کہا تھا، یہ آپ کی کمپنی ہوگی۔ اس میں ہمارا دماغ، ہمارے ہاتھ اور ہمارے انجینئر ہوں گے۔ اور میں ان کے لیے ایک بہترین کمپنی بنانے کی پوری کوشش کروں گا۔ ہمیں انٹرسیپٹرز کسی اور کو فروخت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے تو ان کی اپنے ملک کے لیے ضرورت ہے۔

جون میں انقرہ میں ہونے والی نیٹو سمٹ کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کو انٹرسیپٹرز تیار کرنے کے لیے لائسنس دینے کی پیشکش کی تھی۔ ریتھیون اور لاک ہیڈ مارٹن کی ٹیمیں زیلنسکی سے ملاقات کے لیے کیف گئی تھیں، لیکن کچھ ہی عرصے بعد ٹرمپ نے اس بات پر شکوک کا اظہار کیا کہ لائسنسنگ کا عمل آگے بڑھے گا یا نہیں۔ زیلنسکی نے کہا، میں اسے حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ ان کی بات کا مطلب امریکی صدر کی بات ہے۔ اور مجھے امید ہے کہ مجھے یہ مل جائے گا۔ زیلنسکی کے انٹرویو کے جواب میں وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے کہا کہ پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کی پروڈکشن کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی کوئی ضمانت دی گئی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande