
سی ایم یوگی کی ہدایت پر، آیوشمان اسکیم کے ساتھ گڑبڑی کرنے والے اسپتالوں پر کساشکنجہ
لکھنو ، 18 اگست(ہ س)۔ یوگی حکومت آیوشمان اسکیم سے وابستہ اسپتالوں کے خلاف آیوشمان کارڈ کے مریضوں کے علاج میں لاپرواہی، قواعد کی خلاف ورزی اور مالی بے ضابطگیوں کے لیے کارروائی کر رہی ہے۔ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی ہدایت پر سال 2020 سے 2026 تک کل 866 اسپتالوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ ان میں سے سب سے زیادہ 648 اسپتالوں کو فہرست سے خارج کر دیا گیا، جبکہ 61 اسپتالوں کو اسکیم سے معطل کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی 17 اسپتالوں میں اسپیشلٹی کو ڈی امپینل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 140 اسپتالوں پر ساڑھے آٹھ کروڑ سے زیادہ کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ ان سے اب تک چار کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم وصول کی جا چکی ہے۔
اس مالی سال میں اب تک 318 اسپتالوں پر کارروائی کی جا چکی ہے۔
ساچی کی سی ای او ارچنا ورما نے کہا کہ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ آیوشمان کارڈ ہولڈر مریضوں کے معیاری علاج کے بارے میں بہت سنجیدہ ہیں۔ ایسی صورت حال میں وزیر اعلی یوگی کے ارادے کے مطابق مریضوں کے علاج میں لاپرواہی کرنے والے اور معیار پر پورا نہ اترنے والے اسپتالوں کے خلاف مسلسل کارروائی کی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2026 میں لاپرواہی کے الزام میں 318 اسپتالوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔ ان میں سے 242 اسپتالوں کو حکومت ہند کے 35 شقوں پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے فہرست سے خارج کر دیا گیا، جبکہ 61 اسپتالوں کو معطل کر دیا گیا۔ ان میں 15 اسپتالوں کی خصوصیات کو فہرست سے خارج کرنا شامل ہے۔ اس سے قبل سال 2025 میں 16 اسپتالوں پر کارروائی کی گئی تھی، جس میں 14 اسپتالوں کی ڈی-پینلمنٹ، دو اسپتالوں کی اسپیشلٹی کی ڈی-پینلمنٹ شامل تھی۔
گزشتہ دو سالوں میں 140 اسپتالوں پر جرمانہ عائد کیا گیا
ساچی کے سی ای او نے اطلاع دی کہ 2024 میں 27 اسپتالوں پرکارروائی ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی 2023 میں 203، 2022 میں 41، 2021 میں 44 اور 2020 میں 77 اسپتالوں پر کارروائی کی گئی۔ اس کے علاوہ، مالی سال 2025تا2026 میں 60 اسپتالوں کے خلاف 34566886 روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا۔ اس میں سے اب تک 3 کروڑ 19 لاکھ 27 ہزار 958 روپے اسپتالوں سے وصول کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی رقم کی وصولی کا عمل جاری ہے۔ اسی طرح مالی سال 2026تا2027 میں اب تک 80 اسپتالوں پر50759491 روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ اب تک ا م میں سے اب تک 17 لاکھ 72, ہزار883روپے وصول کیے جا چکے ہیں۔ جبکہ تین کروڑ 89 لاکھ 86 ہزار 608 روپے کی رقم باقی ہے۔ دونوں مالی سالوں میں 140 اسپتالوں پر 8,53,26,352 روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا۔ اس میں سے841 40370کروڑ روپے کی وصولی کی گئی ہے۔ ساتھ ہی اگر جرمانے کے بعد بھی اسپتال معیار پر پورا نہیں اترتے ہیں تو معطلی کی کارروائی کی جائے گی۔
سی ای او نے بتایا کہ اسٹیٹ اینٹی فراڈ یونٹ کے ڈیٹا اینالیٹکس کی بنیاد پر آیوشمان مریضوں کے علاج میں لاپرواہی، معیارات کو پورا نہ کرنا اور ان ہی مریضوں کو بار بار داخل کرنا، وہی رپورٹ بھیجنا اور او پی ڈی مریض کو آئی پی ڈی میں داخل دکھانا کے معاملات کی نشاندہی کی جا رہی ہے، جس کے بعد ان اسپتالوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی