
نئی دہلی، 18 اگست (ہ س)۔
ہندوستان کے اسکولی تعلیمی نظام میں صرف کلاس کی تعداد ہی نہیں بڑھ رہی بلکہ تدریس کے معیار، صنفی مساوات، سماجی شمولیت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں بھی نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔ مرکزی وزارت تعلیم کے ڈیجیٹل پورٹل یونائیفائیڈ ڈسٹرکٹ انفارمیشن سسٹم فار ایجوکیشن پلس (یو ڈی آئی ایس ای پلس) کی 2025-26 کی رپورٹ ملک کے 14.67 لاکھ اسکولوں، 1.03 کروڑ اساتذہ اور 24.72 کروڑ طلبہ کے اعداد و شمار پر مبنی ہے۔
قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کے مطابق مرتب کیے گئے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان کے اسکول زیادہ جامع، سہولیات سے آراستہ اور طلبہ پر مرکوز ہوتے جا رہے ہیں۔
بہتر تعلیمی نتائج کے لیے طلبہ اور اساتذہ کا متوازن تناسب انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بنیادی سے ثانوی سطح تک طلبہ-اساتذہ تناسب(پی ٹی آر) میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ فاؤنڈیشنل سطح پر یہ تناسب 10:1، پریپریٹری سطح پر 12:1، مڈل سطح پر 17:1 اور سیکنڈری سطح پر 21:1 ہے۔اس متوازن تناسب سے اساتذہ کو طلبہ پر انفرادی توجہ دینے اور کلاس روم میں مکالمے پر مبنی تدریس کو فروغ دینے میں مدد مل رہی ہے۔
ہندوستانی اسکولی نظام کو درپیش ایک بڑی پرانی چیلنج، یعنی تعلیم درمیان میں چھوڑ دینے کی شرح میں بھی مسلسل کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ پریپریٹری سطح پر ڈراپ آؤٹ کی شرح کم ہو کر 1.8 فیصد اور سیکنڈری سطح پر 7.0 فیصد رہ گئی ہے۔
اسکول میں طلبہ کے برقرار رہنے کی شرح بھی حوصلہ افزا ہے۔ پرائمری سطح پر 98.5 فیصد، پریپریٹری سطح پر 91.1 فیصد اور مڈل سطح پر 83.7 فیصد طلبہ اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔اسی طرح فاؤنڈیشنل سے ابتدائی سطح پر 99.2 فیصد اور مڈل سطح پر 93.8 فیصد طلبہ کا اگلی جماعت میں داخلہ تعلیم کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے۔
مجموعی داخلہ شرح(جی ای آر) کے لحاظ سے مڈل سطح پر یہ شرح 89.6 فیصد ہے، جبکہ سیکنڈری سطح پر بہتری کے ساتھ یہ 71.7 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
ملک میں کل 24.72 کروڑ طلبہ کے اندراج میں سیکنڈری سطح کی حصہ داری 27.16 فیصد، پریپریٹری کی 25.60 فیصد، مڈل کی 25.58 فیصد اور فاؤنڈیشنل مرحلے کی 21.66 فیصد ہے۔ یہ اعداد و شمار اسکولی تعلیم کے مختلف مراحل میں طلبہ کی نسبتاً متوازن شمولیت کی عکاسی کرتے ہیں۔
تعلیم کے شعبے میں سماجی شمولیت کے اعداد و شمار بھی اہم پیش رفت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مجموعی داخلوں میں دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی)کی حصہ داری 44.9 فیصد ہے، جبکہ درج فہرست ذاتوں (ایس سی) کا حصہ 17.7 فیصد اور درج فہرست قبائل (ایس ٹی ) کا حصہ 10 فیصد ہے۔ دونوں کو ملا کر ایس سی اورایس ٹی طلبہ کی حصہ داری 27.7 فیصد بنتی ہے۔دیگر طبقات کی حصہ داری27.5فیصددرج کی گئی ہے۔
صنفی مساوات کے حوالے سے بھی اعداد و شمار مثبت تصویر پیش کرتے ہیں۔ مجموعی طلبہ کے اندراج میں طالبات کی حصہ داری 48.4 فیصد ہے، جبکہ تدریسی شعبے میں خواتین اساتذہ کی حصہ داری بڑھ کر 54.9 فیصد ہو گئی ہے۔ یہ اسکولی تعلیم میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت اور قیادت کی عکاسی کرتا ہے۔
اسکولوں کی جدید کاری کے تحت ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیم کو بھی فروغ ملا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب 69.9 فیصد اسکولوں میں کمپیوٹر کی سہولت دستیاب ہے، جبکہ 67.4 فیصد اسکول انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی سے لیس ہو چکے ہیں۔
بنیادی سہولیات کے شعبے میں بھی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ 99.5 فیصد اسکولوں میں صاف پینے کا پانی، 98.5 فیصد میں طالبات کے لیے علیحدہ بیت الخلا، 97.2 فیصد میں طلبہ کے لیے بیت الخلا اور 95 فیصد اسکولوں میں بجلی کی سہولت موجود ہے۔اس کے علاوہ 90.5 فیصد اسکولوں میں لائبریری اور 58.2 فیصد اسکولوں میں ہینڈریل سے لیس ریمپ کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔
انتظامی سطح پر بھی بہتری کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ اساتذہ کی معقول اور ضرورت کے مطابق تعیناتی کے نتیجے میں صرف ایک استاد والے اسکولوں کی تعداد میں تقریباً 3 فیصد کمی آئی ہے اور یہ تعداد کم ہو کر 1,00,843 رہ گئی ہے۔
اسی طرح ایسے اسکول جہاں ایک بھی طالب علم کا داخلہ نہیں تھا، ان کی تعداد میں 29 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ایسے اسکولوں کی تعداد گھٹ کر 5,663 رہ گئی ہے۔
یو ڈی آئی ایس ای پلس 2025-26 کے اعداد و شمار سے مجموعی طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستانی اسکولی تعلیم کا دائرہ اب محض خواندگی تک محدود نہیں رہا، بلکہ بنیادی ڈھانچے کی توسیع، ٹیکنالوجی کے استعمال، سماجی شمولیت اور معیاری تعلیم کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ شواہد پر مبنی یہ اعداد و شمار مستقبل کی تعلیمی پالیسیوں کو مزید مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan