
نئی دہلی، 18 اگست (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے ملک میں پھانسی کی سزا کے بجائے کوئی متبادل طریقہ اختیار کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے جس میں ’آسان موت‘ یعنی موت کے وقت کم سے کم تکلیف ہو۔ جسٹس وکرم ناتھ کی سربراہی والی بنچ نے واضح کیا کہ مرکزی حکومت چاہے تو ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دے کر سزائے موت دینے کے دیگر طریقوں پر غور کر سکتی ہے، جن میں سزا یافتہ افراد کو کم سے کم درد اور تکلیف ہو اور آئین کے بنیادی تقاضے بھی پورے ہوں۔ سپریم کورٹ کا آج کا فیصلہ حکومت کو ایسا کرنے سے نہیں روکتا۔
یہ درخواست سینئر وکیل رشی ملہوترا نے دائر کی تھی۔ انہوں نے اپنی عرضی میں کہا تھا کہ زندگی کے بنیادی حق میں باوقار طریقے سے مرنے کا حق بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ پھانسی کے بجائے سزائے موت دینے کے لیے کوئی دوسرا طریقہ اختیار کیا جائے۔ عرضی میں پھانسی کو موت دینے کا انتہائی تکلیف دہ اور وحشیانہ طریقہ قرار دیتے ہوئے زہریلا انجکشن، گولی مارنا، گیس چیمبر یا بجلی کا جھٹکا دینے جیسے متبادل طریقے اپنانے کی مانگ کی گئی تھی۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ پھانسی کے ذریعے موت واقع ہونے میں 40 منٹ تک لگ سکتے ہیں، جبکہ گولی مارنے یا برقی کرسی کے ذریعے موت چند منٹ میں واقع ہو سکتی ہے۔
ملہوترا نے کہا تھا کہ لائ کمیشن نے بھی اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک نے پھانسی کے بجائے انجکشن یا گولی مارنے جیسے طریقوں کو اختیار کیا ہے۔ ان کے مطابق قیدی کو کم سے کم درد اور تکلیف پہنچانے والا طریقہ زیادہ انسانی اور قابل قبول ہو سکتا ہے۔ لائ کمیشن نے 1967 کی اپنی 35ویں رپورٹ میں کہا تھا کہ بیشتر ممالک نے بجلی کا کرنٹ، گولی مارنے یا گیس چیمبر جیسے طریقوں کو پھانسی کے متبادل کے طور پر اختیار کیا ہے۔
درخواست میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا تھا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 354(5) میں موت واقع ہونے تک لٹکانے کی بات کہی گئی ہے، اس لیے اسے آئین میں دیے گئے حقِ زندگی کی خلاف ورزی قرار دیا جائے۔ اس کے ساتھ باوقار انداز میں مرنے کے حق کو بنیادی حق کا درجہ دینے کی بھی درخواست کی گئی تھی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan