
نئی دہلی، 18 اگست(ہ س)۔ کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے جھارکھنڈ میں گزشتہ 24 دنوں سے جاری طلبہ کی بھوک ہڑتال ختم ہونے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہیمنت سورین حکومت نے طلبہ سے بات چیت کا راستہ اختیار کیا اور مسئلے کا حل نکالا، جبکہ طلبہ نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے مطالبات منوائے۔ راہل گاندھی نے منگل کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ جھارکھنڈ کے طلبہ اور ریاستی حکومت کے درمیان اتفاق رائے قائم ہوا اور طلبہ نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ خبر سن کر انہیں بہت خوشی ہوئی۔ طلبہ نے سوالات اٹھائے ہیں تو انہیں جواب بھی ملنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس ملک کے ہر طالب علم کے ساتھ کھڑی ہے اور وہ بدعنوانی کے نظام کو جڑ سے تبدیل کرنے کے لیے جدوجہد کرے گی۔ ایسا نظام قائم کیا جائے گا جس میں ہر طالب علم کو اپنی محنت کا پورا صلہ اور منصفانہ مقابلے کا حق حاصل ہو۔ پورے ملک میں اس نظام کو تبدیل کیا جائے گا۔ اب ایسا نظام بنایا جائے گا جو طلبہ کو آگے بڑھنے میں مدد دے، نہ کہ انہیں پیچھے دھکیلے۔
قابل ذکر ہے کہ ہیمنت سورین حکومت کے ساتھ بات چیت کے بعد دیویندر ناتھ مہتو کی قیادت میں طلبہ نے پیر کے روز 24 دن سے جاری اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ تاہم رانچی میں طلبہ کے ایک دوسرے گروپ، جے پی ایس سی-جے ایس ایس سی امیدوار نیائے منچ کی تحریک جاری ہے۔ طلبہ بھرتی امتحانات کی سی بی آئی تحقیقات کے مطالبے پر بضد ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan