
نئی دہلی، 18 اگست (ہ س)۔ بھارت نے بنگلہ دیش کے ساتھ اپنے تعلقات کے حوالے سے موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان مثبت، تعمیری اور مستقبل پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات باہمی مفادات اور برابری کی بنیاد پر آگے بڑھنے چاہئیں۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بنگلہ دیش کی جانب سے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی دہلی میں منعقدہ پریس کانفرنس کے حوالے سے بھارت اپنا موقف پہلے ہی واضح کر چکا ہے، اس لیے اسے دوبارہ دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ بنگلہ دیش نے شیخ حسینہ کی میڈیا سے بات چیت پر اعتراض کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے نقصان دہ قرار دیا تھا۔
جیسوال نے کہا کہ بنگلہ دیش کی جانب سے بھارت کو موصول ہونے والی حوالگی سے متعلق درخواستوں کا مقررہ قانونی طریقہ کار کے تحت جائزہ لیا جا رہا ہے۔
بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان توانائی تعاون کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر ترجمان نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون جاری ہے۔ بنگلہ دیش کی جانب سے اضافی توانائی کی فراہمی کی درخواست کا بھارت جائزہ لے رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں فیصلہ کرتے وقت بھارت کی اپنی توانائی کی ضروریات، ریفائننگ کی صلاحیت اور ملک میں دستیاب ڈیزل کی مقدار کو مدنظر رکھا جائے گا۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیش اس وقت بجلی اور ایندھن کی قلت کا سامنا کر رہا ہے۔ گیس کی کمی اور ایل این جی ٹرمینلز سے متعلق مسائل کے باعث وہاں بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔ ایسی صورتحال میں ڈھاکہ نے بھارت سے اضافی ڈیزل فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔دونوں ممالک کے درمیان بھارت-بنگلہ دیش دوستی پائپ لائن کے ذریعے پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی پہلے سے جاری ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan